Posts

Showing posts with the label Rohaniyat kiya ha

مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح،

Image
Marafat illahi اللّٰہ تک پہنچنا کتاب: فتوح الغیب مؤلف: شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اے سالک ! یہ اچھی طرح جان لے کہ  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنا کسی بندے تک پہنچنے کی طرح نہیں کیونکہ کوئی شے اُس جیسی نہیں، وہ  سب کچھ سننے والا اور وہ سب کچھ دیکھنے والا ہے، وہ  اس بات سے بالا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کے ساتھ اسے تشبیہہ دی جائے یا اس کی پیدا کی ہوئی اشیاء کو اس جیسا تصور کیا  جائے، اُس تک پہنچنا اُس تک پہنچنے والوں کو ہی معلوم ہے،  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو  اُسکی مخلوق، اپنی ہوائے  نفس اور خواہشات  سے بالکل باہر نکل جائے اور پھر  اللّٰــــــــــــــــــــہ کے فعل اور ارادے پر ثابت قدم ہو جائے، ہر وہ شخص جو دوست  (اللّٰــــــــــــــــــــہ) سے ملنے والا ہے وہ  اس دوست (اللّٰــــــــــــــــــــہ) کی دوستی کے  مرتبے میں  دوسرے دوست سے جدا ہے، اللّٰــــــــــــــــــــہ اپنی دوستی کے مرتبے میں اپنے ایک دوست کو اپنے  کسی دوسرے دوست کے...

وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ؟

Image
Marafat illahi حضرت ذوالنون مصری (رحمۃ اللہ علیہ) کے تائب ہونے کا واقعہ عجیب و غریب ہے اور یہ کہ کسی شخص نے آپ کو اطلاع پہنچائی کے فلاں مقام پر فلاں نوجوان عابد ہے اور جب آپ اس سے نیاز حاصل کرنے پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ جب تک تو عبادت الہی میں میری ہمنوائی  نہیں کرے گا۔ میں تجھے یوں ہی اذیت دیتا رہوں گا حتی کہ تیری موت واقع ہو جائے گی۔یہ واقعہ دیکھ کر آپ کو اس پر ایسا ترس آیا کہ رونے لگے لگے اور جب نوجوان عابد نے پوچھا کہ یہ کون ہے جو ایک گنہگار پر ترس کھا کر رو رہا ہے ۔یہ سن کر آپ نے اس کے سامنے جا کر سلام کیا اور مزاج پرسی کی۔ اس نے بتایا کہ جو کہ یہ بدن عبادت الہی پر آمادہ نہیں ہے اس لیے یہ سزا دے رہا ہوں۔آپ نے کہا کہ مجھے تو یہ گمان ہوا کہ شاید تم نے کسی کو قتل کر دیا ہے یا کوئی گناہ عظیم سرزد ہوگیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ تمام گناہ معاف سے اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں مخلوق سے رسم و راہ کو بہت بڑا گناہ تصور کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ تم تو واقعی بہت بڑے زہد ہو۔اس نے جواب دیا کہ اگر تم کسی بڑے زہد کو دیکھنا چاہتے ...

غلام فریدا اُوتھے کُجھ نہئیں بچدا جتھے عشق نے لا لیا ڈیرا

Image
Marafat illahi عشق تے اَگّ دونویں عین برابر پر عشق دا تاج اوچیرا  اَگّ تے ساڑے ککھ تے کانے پر عشق ساڑے دل میرا اَگّ بُجھدی اے نال پانی تے عشق دا دارُو کیہڑا غلام فریدا اُوتھے کُجھ نہئیں بچدا جتھے عشق نے لا لیا ڈیرا

کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ " عید کداں " ( عید کب ہو گی )

Marafat illahi کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر  آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ  " عید کداں " ( عید کب ہو گی )  کچھ  لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے   ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرنے تو اُس  مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا   عید کداں ( عید کب ھو گی ) آپ صاحبِ حال بزرگ تھے اُس کا سوال سُن کر مسکرائے    اور کہا  یار ملے جداں ( جب محبوب ملے  وھی دن عید کا دن ھو گا )  یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی  آنکھُوں  سے مُوتیُوں کی طرح آنسُوں جاری ھو گے وہ مزید ترستی آنکھوں سے گُویا ھوا سرکار  " یار ملے کداں "(  محبوب کس طرح  ملے گا )  خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا  "میں مرِے جداں " ( جب" میں " مرے  گئ) بس یہ فرمانا تھا  کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا حضور  " میں مرےِ کداں " ( میں کب مرے گئ  )  سرکار  رحمتہ اللہ علیہ  مسکراۓ اُسے پیار سے تھپکی دیتے یہ کہتے چل ...

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

Image
Marafat illahi ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ   ﻧﮧ ﮐﺮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﻧﻮﮞ ﻧﮧ ﭨﯿﮑﮯ ﻻ ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﺩﮮ ﻭﭺ  ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﯿﺎﮞ ﻧﮧ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ   ﺟﮯ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮﮞ ﭘﭽﮭﺪﺍ ﺍﯾﮟ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﯾﺎﺭ ﻣﻼ ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ🔥

انسان کی آنکھ دل کی کھڑکی ہوتی ہے

Image
Marafat illahi  .        ایک کمرے کی اچھی طرح صفائی کر دیں,  مکمل طور پر صاف کرنے کے بعد کمرے کو بند کر دیا جائے,  مگر اس کی کوئی ایک کھڑکی یا روشن دان  کھلا رہ جائے  تو کچھ عرصہ بعد کمرے میں دوبارہ مٹی اور گرد جمع ہو جائے گی!             انسان کی آنکھ دل کی کھڑکی ہوتی ہے,   آنکھ کے ذریعے کی جانے والی بدنظری ہمارے دل کو گندہ اور ناپاک کر دیتی ہے؛   ہماری نماز میں سے  حلاوت و سکون ختم ہو جاتا ہے'؛روحانیت کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے ؛  اور قلب سلیم نہیں مل سکتا؛  اگر ایمان میں شہد کی مانند مٹھاس چاہتے ہو تو اپنی نظر کی حفاظت رکھنا چاہئے؛؛⁦✍️⁩!!!

رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے.

Image
Marafat ILLAHI رضا محبت کا نتیجہ ہے رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے. اس کا دل اطمینان میں ہوتا ہے. جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے، جو بھی مصیبت و ابتلاء کا زمانہ ہو، بندہ اس وقت کو خوشی و مسرت کے ساتھ گزار لیتا ہے. درد کو نعمت سمجھتا ہے اور اسے عزیز رکھتا ہے. گلہ و شکوہ سے بچا رہتا ہے. لبوں پہ حرفِ شکایت نہیں لاتا، بلکہ جہاں صبر کا مقام ہوتا ہے وہاں وہ شکر کی کیفیت میں ہوتا ہے. یہ سب محبت کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے. محبت کے بغیر یہ حال و کیفیت حاصل نہیں ہوسکتی.  بقول میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ جناں دکھاں وچ دلبر راضی تے اناں تو سکھ وارے دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے محبت کے اس تعلق میں سکھ یا دکھ، آرام یا سختی، ہجر یا وصال، کلام یا خاموشی معنی نہیں رکھتے. جو کچھ محبوب کی طرف سے عطا ہو رہا ہو محب اس کو سینے سے لگاتا ہے. وہ عطیہ کے بجائے عطا کرنے والے کو دیکھ رہا ہوتا ہے. کہ جو کچھ مل رہا ہے یہ دینے والا کون ہے؟ اس درد سے مجھے کس نے نوازا ہے؟ یہ جو تکلیف پہنچی ہے یہ کس کی طرف سے آئی ہے؟ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ تو میرا مح...

سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو

Image
Marafat illahi   قلندر  آزاد درویشوں کی ایک خاص قسم جو روحانیت کی طرف مائل ہو۔ صوفیانہ فلسفہ کا ایک اہم گروہ۔سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو۔ ۔!!! وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دنیوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر۔ اصطلاح میں قلندر وہ شخص ہے جو دونوں جہان سے پاک اور آزاد رہے اگر ذرا بھی اسے دنیا سے لگاو ہو تو وہ سلسلہ قلندریہ سے دور اور صاحبان غرور میں شامل ہے  قلندر  اور صوفی میں یہ فرق ہے کہ قلندر نہایت آزاد اور مجرد عن العلائق ہوتا ہے اور کوئی نیکی ظاہر نہیں کرتا اور کوئی بدی چھپا کر نہیں رکھتا ہے قلندر اور صوفی ہم معنی ہالفاظ ہیں۔ قلندر وہ ہے جو حالات اور مقامات و کرامات سے تجاوز کر جائے خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں کہ موانعات سے مجرد ہو کر اپنے آپ کو گم کر دینے کا نام قلندری ہے۔  شاہ نعمت اللہ ولی فرماتے ہیں کہ صوفی منتہی جب اپنے مقصد پر جا پہنچتا ہے قلندر ہو جاتا ہے۔ اللّٰ...

آپؒ ایک دن حضرت حسن بصریؒ کے ہمراہ دریاء کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ اچانک پانی کے اوپر چلنا شروع کر دیا

Image
Marafat illahi حضرت عتبہ بن غلام (رحمۃ اللہ علیہ) آپؒ کا شمار اہل باطن اور اہل کمال میں ہوتا ہے۔ آپؒ حضرت حسن بصریؒ کے تلامذہ میں ہیں اور آپؒ کا طریقہ مقبول عام و خاص تھا۔ راضی بر رضائے الٰہی: آپؒ ایک دن حضرت حسن بصریؒ کے ہمراہ دریاء کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ اچانک پانی کے اوپر چلنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حسن بصریؒ حیرت زدہ ہو گئے اور ان سے سوال کیا کہ آپ کو یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟؟؟   فرمایا کہ آپ تو صرف وہ کرتے ہیں جسکا آپ کو حکم دیا جاتا ہے لیکن میں وہ امور انجام دیتا ہوں جو اللہ تعالٰی کا منشاء ہوتا ہے۔  مطلب یہ تھا کہ آپؒ بحر تسلیم و رضاء  میں غرق رہتے ہیں۔  احساس زیاں: آپؒ اس طرح تائب ہوئے کہ ایک حسین عورت پر فریفتہ ہوئے، اس سے کسی نہ کسی طرح اپنے عشق کا اظہار کر دیا۔ چنانچہ اس نے اپنی کنیز کے ذریعہ دریافت کرایا کہ آپؒ نے میرے جسم کا کون سا حصہ دیکھا ہے؟؟؟  آپؒ نے فرمایا کہ تمہاری آنکھیں دیکھ کر فریفتہ ہوا ہوں۔۔اس  جواب کے بعد اس نے اپنی دونوں آنکھیں نکال کر آپؒ  کی خدمت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کنیز سے یہ کہلوایا کہ جس چیز پر آپ ف...

ﻭﻻﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟

Image
Marafat illahi ﻭﻻﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ, ﺻﺎﻟﺢ, ﻣﺘﻘﯽ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ, ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ, ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﺴﺐِ ﺣﺎﻝ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺣﻞ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ،ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﯽ۔ ۔ ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺁﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﮯ؟۔ ۔ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ۔ ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ ۔ ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ, ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺁﭖ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮﮮ ﺭﮨﮯ, ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﺎﻻ ﮨﮯ۔ ﺻﺮﻑ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿﮧ ﻭﻗﺖ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞﻭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﮐﻮ ﻧﻤﭩﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ, ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍﺩﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ, ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ۔ ۔ ۔ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ, ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﮐ...

دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے

Marafat illahi دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے اور باہمی گفتگو کرنے لگے کہ اگر رابعہ اس وقت کھانا پیش کردے تو بہت اچھا ہو کیونکہ ان کے یہاں رزق حلال میسر آجائے گا۔اور آپ کے یہاں اس وقت صرف دو ہی روٹیاں تھیں وہیں ان کے سامنے رکھ دیں۔دریں اثنا کسی سائل نے سوال کیا تو آپ نے دونوں روٹیاں اٹھا کر اس کو دے دیں یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے لیکن کچھ ہی وقفہ کے بعد ایک کنیز بہت سی گرم روٹیاں لیے ہوئے حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمیں یہ میری مالکہ نے بھجوائی ہیں۔اور جب آپ نے ان روٹیاں کا شمار کیا تو وہ تعداد میں 18 تھیں۔یہ دیکھ کر قمیض نے وثوق کے ساتھ عرض کیا یہ آپ ہی کے لئے بھجوائی ہیں ہیں۔مگر آپ نے کنیز کے مسلسل اصرار کے باوجود واپس کردیں۔اور جب کنیز نے اپنی مالکہ سے واقعہ بیان کیا تو اس نے حکم دیا کہ اس میں مزید دو روٹیوں کا اضافہ کر کے لے جاؤ۔چنانچہ جب آپ نے 20 روٹیاں شمار کر لیں تب جب ان مہمانوں کے سامنے رکھا اور وہ محو حیرت ہو کر کھانے میں مصروف ہوگئے اور جب فراغت طعام کے بعد رابعہ بصری سے واقعے کی نوعیت معلوم کرنا چاہی تو فرمایا کہ جب تم یہاں حاضر...

ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ

Image
Marafat illahi ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ، ابھی میں کام میں لگا ہوا ہوں، کافی دیر گزر گئی، اس نے پھر سوال کیا، کہنے لگا، لو جی تھوڑا سا کام اور رہ گیا، کام سے فارغ ہو کے تمہیں دوں گا۔ ابھی میں مصروف ہوں۔ وہ درویش غصے میں آگیا اور کہنے لگا کہ تم اتنے مصروف ہو تو، مرو گے کیسے؟ وہ بھی آگے بولا جیسے تُو مرے گا! درویش نے کہا "ہماری موت تو اتنی آسان ہے، تُو بتا کیسے مرے گا؟ دیکھو، میں تو یوں مروں گا۔"درویش نے ایک چادر بچھائی، کلمہ پڑھا، اور مر گیا۔ درویش کے مرنے کے بعد اس آدمی پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ ساری دکان لٹا دی اور ہر شئے چھوڑ چھاڑ کے جنگلوں میں نکل گیا۔ وہ فرید الدین ایک عام آدمی تھا۔ اب وہ فریدالدین عطار ہو گئے۔ ان پر راز آشکار ہو گیا۔ وہ بات سمجھ گئے کہ فقیر کون تھا؟ فقیر یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ تُو اتنا مصروف ہے کہ تجھے مرنے کی سمجھ نہیں آ رہی، تو پھر موت کے وقت کیسے مرے گا۔ اگر آپ کو موت کے وقت عزرائیل سے تھوڑی سی مہلت ملنے کا امکان ہو تو آپ اسے بھی یہ کہہ دو گے کہ ٹھہر جاؤ، ابھی دوچار خطوں کے جواب دینے ہیں، ...

تقویٰ کے چار حرف ہیں، ت, ق, و, ی..

Image
Marafat illahi تقویٰ کے چار حرف ہیں، ت, ق, و, ی.. صاحبِ تقویٰ کے پاس دو "ت" ہونی چاہییں  ایک "ت"ترک کی اور دوسری توکل کی ۔ صاحبِ تقویٰ کے پاس دو "ق" ہونے چاہییں ایک "ق" قہر برسائے اپنے نفس پر اور دوسرا "ق" قادر ہو جائے اپنے نفس پر۔ صاحبِ تقویٰ کے پاس دو "و" ہونی چاہییں  ایک "و" واحد ہو جائے اور دوسری "و" وحدت میں غرق ہو جائے۔ صاحبِ تقویٰ کے پاس دو "ی" ہونی چاہییں ایک "ی" یگانہ بحق ہو جائے اور دوسری "ی" یاری کر لے حق تعالیٰ سے۔ ‏تقویٰ یہ ہے کہ تم خود کو کسی سے بہتر نہ سمجھو

تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ

Image
Marafat illahi مَیں شہسوار ہوں، مَیں شہسوار ہوں،مَیں شہسوار ہوں،تمام غوث و قطب میری زیربار سواریاں ہیں‘‘-(محک الفقرکلاں) ’’جان لے کہ عرش سے ستر منزل اوپر مرتبۂ قطب ہے اور قطب سے ستر منزل اوپر مرتبۂ غوث ہے لیکن غوث و قطب کے یہ مراتب انانیت ِنفس و کشف و کرامات کے مرتبے ہیں جو غرقِ وحدانیت ِذات کے مراتب سے بے خبر ہیں-فقیر اِن کمتر مراتب کی طرف دیکھتا ہی نہیں کہ اِن کا تعلق خواہشاتِ نفس سے ہے-سچا طالب مرید طلب ِمولیٰ میں شاد رہتا ہے ‘‘-(اسرارالقادری) جس طرح دنیاداری میں مختلف عہدے اور پوسٹیں ہوتی ہیں ،اسی طرح تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ صاحبِ فقراور عاشق کا ہوتا ہے جیساکہ سُلطان العارفین حضرت سخی سُلطان باھو(رحمۃ اللہ علیہ) ارشادفرماتے ہیں: ’’غوث و قطب اگر تمام عمر بھی مجاہدۂ ریاضت میں مصروف رہیں تو مرتبۂ فقر کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مرتبۂ فقر کی ابتدا شرفِ لقاہے اور شرفِ لقا کا حصول فنائے نفس سے ہے اورفنائے نفس کا حصول زندگی ٔقلب و بقائے روح سے ہے‘‘-(امیرالکونین) آپ (رحمۃ اللہ علیہ) خود اپنے...

ﻋﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﮯﺟﮭﮕﮍﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ہے

Image
                   Marafat illahi ﻋﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﮯﺟﮭﮕﮍﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ہے۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍُﺱﮐﮯ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﮯﻟﯿﺌﮯ ﭼﻼ۔ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺍُﺱﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ۔ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﮐﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺳﮑﮯ۔ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺗﯽ۔ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ ﭘُﺮ ﺗﮭﺎ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺑﮯﮨﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﻋﻘﻞ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ جبکہ ﺳﻮﺍﺭﯼﮐﻮ ﮨﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﺎﺭ ﮈﮬﯿﻠﯽ ﮨﮯ ﻓﻮﺭﺍََ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﺟﺐ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻮﺵ ﺁﺗﺎ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﻣﯿﻠﻮﮞ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺭﮨﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﮭﺎ ﺩﻭ ﻣُﺘّﻀﺎﺩ ﺳﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯﻋﺎﺷﻘﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﮐﮯ...

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی

Image
                   Marafat illahi یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی ۔ ۔۔۔نہ ہی ان کے شیخ نے انہیں اسباق طریقت سے نوازا ۔۔۔ان سالکین کے دل ابھی تک بند ھیں وہ اللہ کریم کی تجلیات انوارات نہ دیکھ سکتے ھیں نہ محسوس کر سکتے ھیں   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم آپ کو اپنے جسم میں اللہ کا وہ فطری ذکر اور اسکے ذرائع /روحانی ادراک بحال کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس سے روح کو توانائی / محبت ملے گی اور ذکر آپ کو رگ وریشہ میں محسوس ہو گا۔ شیطان کے ڈالے ہوئے اندھیرے/ظلمتیں ختم ہو جائیں گیں اور معرفت الہی کے نور سے پورا جسم، ہڈی، ماس، بال بال مزین ہو جائے گا۔اللہ اور اسکے پیارے حبیبﷺ کی محبت کو لازوال رفعتیں نصیب ہو جائیں گی۔ انشاء اللہ۔ ہماری تگ ودو روحانی ادراک بحال کرکے عین الیقین والا ایمان حاصل کرنے کی ہے۔ جس کو ہم *ذکر و مراقبہ* کہہ کر سکھا رہے ہیں. وہ دراصل گواہی (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوْا بَلٰىۚ) ہے, جو دل اور روح میں ہمہ وقت جاری ہے۔ اسی کو recall کیا جاتا ہ...

’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے

Image
Marafat illahi فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ: ’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے،پیچھے کی بجائے ان کی توجہ سامنے ہی رہتی ہے، انسان،جن اور فرشتے غرض سب طرح کی مخلوق ان کی خدمت کیلیے کمربستہ رہتی ہے-حُکم  اور علم ان کے خادم بن جاتے ہیں ،اللہ عزوجل کا فضل ان  کی غذا ہے ،انس ومحبت انہیں سیراب کرتا ہے ،اللہ  عزوجل کے فضل  کے طعام سے کھاتے ہیں اوران کی  اُنسیت کے شربت سے پیتے ہیں-اللہ عزوجل کا کلام سُننا ان کا مشغلہ(مصروفیت) ہے پس مردان خُدا ایک وادی میں ہیں اوردوسری مخلوق دوسری وادی میں-خلقِ خدکو احکام ِالہٰی سُناتے ہیں اورجن باتوں سے اللہ عزوجل نے منع فرمایا ہے ان سے روکتے ہیں،حقیقت میں وہی  حضور نبی کریم  (ﷺ) کے نائب اور  وارث ہیں ان کا کام خلقت کو دروازہ حق پر پہنچانا ہے اوراُن پر اللہ عزوجل کی حجت کو قائم کرناہے‘‘- (فتح الربانی)

انسان کائنات میں بے شمار انواع ہیں، بے شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے شمار انواع میں سے ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں سے ایک وجود ہے

Image
                      Marafat illahi انسان کائنات میں بے  شمار انواع ہیں، بے  شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے  شمار انواع  میں  سے  ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں  سے  ایک وجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں   انسان کی انفرادیت یہ ہے  کہ کائنات اور کائنات کا ہر وجود براہِ راست یا بالواسطہ انسان سے  مربوط اور اسی انسان ہی کے  لئے  موجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں  انفرادیت کے  باوجود انسان بھی اسی  ’واحدشے‘  سے  بنا ہے  جس سے  کہ کائنات اور اس کی تمام تر موجودات بنی ہیں۔ لہذا ہم خود کو سمجھ گئے  تو ہم کائنات اور اس کی موجودات کے  بنیادی فارمولے  کو سمجھ جائیں  گے۔ لہذا ہم کائنات کی  ’واحد حقیقت‘  (GRAND SINGULARITY) کا سراغ لگانے  کے  لئے  بہت اوپر آسمان کی وسعتوں  پر نظر دوڑانے  سے  پہلے  ذرا سہل طریقہ اختیار کرتے  ہوئے  اپنے  اندر جھانک کر دیکھتے...

شوقِ سفر (تڑپ و طلب)

Image
                           Marafat illahi شوقِ سفر (تڑپ و طلب)  مسافر کے لیے ضروری ہے کہ جو اسے راہِ حق پہ چلنے شوق عطا ہوا ہے وہ اسے ہمیشہ بیدار رکھے. اس سفر پہ اس کی سواری اس کا شوق ہوگا. اس کے اندر کی طلب و تڑپ ہی اسے اس راستے پہ استقامت عطا کرے گی، ورنہ اس راہ میں قدم قدم آزمائش ہے. اور اگر اندر کی طلب میں یا تڑپ میں کمی ہوگی تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گا. اندر کی تڑپ ہی مسافر کو چلائے رکھتی ہے. وہ حق تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہونا چاہتا ہے. اس کی طلب ہمیشہ محبوبِ حقیقی کے قرب میں آگے بڑھنے کی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتا رہتا ہے کہ مجھے اور قریب ہونا ہے. یہی چیز اسے مسلسل قرب میں لے جا رہی ہوتی ہے. وہ کسی ایک مقام پہ اکتفا نہیں کرتا.  جو بھی اس پہ عطا ہوتی ہے وہ اسے قبول کرتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے اس عطا یا اس مقام میں مطمئن ہو کر الجھتا نہیں ہے. وہ تو مسافر ہے اس کا کام ہی سفر ہے. سفر ہی سفر......  اس سفر کی جتنی چیزیں ہیں چاہے عبادت ہے، ذکر ہے، فکر ہے، مراقبات ہیں، تزکیہ نفس ہے، سب کچھ اس کی ...