دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے

Marafat illahi

دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے اور باہمی گفتگو کرنے لگے کہ اگر رابعہ اس وقت کھانا پیش کردے تو بہت اچھا ہو کیونکہ ان کے یہاں رزق حلال میسر آجائے گا۔اور آپ کے یہاں اس وقت صرف دو ہی روٹیاں تھیں وہیں ان کے سامنے رکھ دیں۔دریں اثنا کسی سائل نے سوال کیا تو آپ نے دونوں روٹیاں اٹھا کر اس کو دے دیں یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے لیکن کچھ ہی وقفہ کے بعد ایک کنیز بہت سی گرم روٹیاں لیے ہوئے حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمیں یہ میری مالکہ نے بھجوائی ہیں۔اور جب آپ نے ان روٹیاں کا شمار کیا تو وہ تعداد میں 18 تھیں۔یہ دیکھ کر قمیض نے وثوق کے ساتھ عرض کیا یہ آپ ہی کے لئے بھجوائی ہیں ہیں۔مگر آپ نے کنیز کے مسلسل اصرار کے باوجود واپس کردیں۔اور جب کنیز نے اپنی مالکہ سے واقعہ بیان کیا تو اس نے حکم دیا کہ اس میں مزید دو روٹیوں کا اضافہ کر کے لے جاؤ۔چنانچہ جب آپ نے 20 روٹیاں شمار کر لیں تب جب ان مہمانوں کے سامنے رکھا اور وہ محو حیرت ہو کر کھانے میں مصروف ہوگئے اور جب فراغت طعام کے بعد رابعہ بصری سے واقعے کی نوعیت معلوم کرنا چاہی تو فرمایا کہ جب تم یہاں حاضر ہوئے تو مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ تم بھوکے ہو اور جو کچھ گھر میں حاضر تھا وہ میں نے تمہارے سامنے رکھ دیا۔اس دوران ایک سائل آپہنچا اور وہ دونوں روٹیاں میں نے اسے دے کر اللہ تعالی سے عرض کیا کہ تیرا وعدہ ایک کی بجائے 10 دینے کا ہے اور مجھے تیرے قول صادق پر پورا یقین ہےلیکن کنیز کے 18روٹیاں  لانے سے میں نے سمجھ لیا کہ اس میں ضرور کوئی سہو ہوا ہے اسی لیے میں نے واپس کردیں دی اور جب وہ پوری بیس روٹیاں لے کر آئی تو میں نے وعدے کی تکمیل میں لے لیں ۔

(تزکرۃ الاولیاء:ص:50)

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی