Posts

Showing posts with the label Islamic pictures

غلام فریدا اُوتھے کُجھ نہئیں بچدا جتھے عشق نے لا لیا ڈیرا

Image
Marafat illahi عشق تے اَگّ دونویں عین برابر پر عشق دا تاج اوچیرا  اَگّ تے ساڑے ککھ تے کانے پر عشق ساڑے دل میرا اَگّ بُجھدی اے نال پانی تے عشق دا دارُو کیہڑا غلام فریدا اُوتھے کُجھ نہئیں بچدا جتھے عشق نے لا لیا ڈیرا

کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ " عید کداں " ( عید کب ہو گی )

Marafat illahi کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر  آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ  " عید کداں " ( عید کب ہو گی )  کچھ  لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے   ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرنے تو اُس  مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا   عید کداں ( عید کب ھو گی ) آپ صاحبِ حال بزرگ تھے اُس کا سوال سُن کر مسکرائے    اور کہا  یار ملے جداں ( جب محبوب ملے  وھی دن عید کا دن ھو گا )  یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی  آنکھُوں  سے مُوتیُوں کی طرح آنسُوں جاری ھو گے وہ مزید ترستی آنکھوں سے گُویا ھوا سرکار  " یار ملے کداں "(  محبوب کس طرح  ملے گا )  خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا  "میں مرِے جداں " ( جب" میں " مرے  گئ) بس یہ فرمانا تھا  کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا حضور  " میں مرےِ کداں " ( میں کب مرے گئ  )  سرکار  رحمتہ اللہ علیہ  مسکراۓ اُسے پیار سے تھپکی دیتے یہ کہتے چل ...

رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے.

Image
Marafat ILLAHI رضا محبت کا نتیجہ ہے رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے. اس کا دل اطمینان میں ہوتا ہے. جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے، جو بھی مصیبت و ابتلاء کا زمانہ ہو، بندہ اس وقت کو خوشی و مسرت کے ساتھ گزار لیتا ہے. درد کو نعمت سمجھتا ہے اور اسے عزیز رکھتا ہے. گلہ و شکوہ سے بچا رہتا ہے. لبوں پہ حرفِ شکایت نہیں لاتا، بلکہ جہاں صبر کا مقام ہوتا ہے وہاں وہ شکر کی کیفیت میں ہوتا ہے. یہ سب محبت کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے. محبت کے بغیر یہ حال و کیفیت حاصل نہیں ہوسکتی.  بقول میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ جناں دکھاں وچ دلبر راضی تے اناں تو سکھ وارے دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے محبت کے اس تعلق میں سکھ یا دکھ، آرام یا سختی، ہجر یا وصال، کلام یا خاموشی معنی نہیں رکھتے. جو کچھ محبوب کی طرف سے عطا ہو رہا ہو محب اس کو سینے سے لگاتا ہے. وہ عطیہ کے بجائے عطا کرنے والے کو دیکھ رہا ہوتا ہے. کہ جو کچھ مل رہا ہے یہ دینے والا کون ہے؟ اس درد سے مجھے کس نے نوازا ہے؟ یہ جو تکلیف پہنچی ہے یہ کس کی طرف سے آئی ہے؟ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ تو میرا مح...

ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ

Image
Marafat illahi ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ، ابھی میں کام میں لگا ہوا ہوں، کافی دیر گزر گئی، اس نے پھر سوال کیا، کہنے لگا، لو جی تھوڑا سا کام اور رہ گیا، کام سے فارغ ہو کے تمہیں دوں گا۔ ابھی میں مصروف ہوں۔ وہ درویش غصے میں آگیا اور کہنے لگا کہ تم اتنے مصروف ہو تو، مرو گے کیسے؟ وہ بھی آگے بولا جیسے تُو مرے گا! درویش نے کہا "ہماری موت تو اتنی آسان ہے، تُو بتا کیسے مرے گا؟ دیکھو، میں تو یوں مروں گا۔"درویش نے ایک چادر بچھائی، کلمہ پڑھا، اور مر گیا۔ درویش کے مرنے کے بعد اس آدمی پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ ساری دکان لٹا دی اور ہر شئے چھوڑ چھاڑ کے جنگلوں میں نکل گیا۔ وہ فرید الدین ایک عام آدمی تھا۔ اب وہ فریدالدین عطار ہو گئے۔ ان پر راز آشکار ہو گیا۔ وہ بات سمجھ گئے کہ فقیر کون تھا؟ فقیر یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ تُو اتنا مصروف ہے کہ تجھے مرنے کی سمجھ نہیں آ رہی، تو پھر موت کے وقت کیسے مرے گا۔ اگر آپ کو موت کے وقت عزرائیل سے تھوڑی سی مہلت ملنے کا امکان ہو تو آپ اسے بھی یہ کہہ دو گے کہ ٹھہر جاؤ، ابھی دوچار خطوں کے جواب دینے ہیں، ...

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی

Image
                   Marafat illahi یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی ۔ ۔۔۔نہ ہی ان کے شیخ نے انہیں اسباق طریقت سے نوازا ۔۔۔ان سالکین کے دل ابھی تک بند ھیں وہ اللہ کریم کی تجلیات انوارات نہ دیکھ سکتے ھیں نہ محسوس کر سکتے ھیں   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ہم آپ کو اپنے جسم میں اللہ کا وہ فطری ذکر اور اسکے ذرائع /روحانی ادراک بحال کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس سے روح کو توانائی / محبت ملے گی اور ذکر آپ کو رگ وریشہ میں محسوس ہو گا۔ شیطان کے ڈالے ہوئے اندھیرے/ظلمتیں ختم ہو جائیں گیں اور معرفت الہی کے نور سے پورا جسم، ہڈی، ماس، بال بال مزین ہو جائے گا۔اللہ اور اسکے پیارے حبیبﷺ کی محبت کو لازوال رفعتیں نصیب ہو جائیں گی۔ انشاء اللہ۔ ہماری تگ ودو روحانی ادراک بحال کرکے عین الیقین والا ایمان حاصل کرنے کی ہے۔ جس کو ہم *ذکر و مراقبہ* کہہ کر سکھا رہے ہیں. وہ دراصل گواہی (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوْا بَلٰىۚ) ہے, جو دل اور روح میں ہمہ وقت جاری ہے۔ اسی کو recall کیا جاتا ہ...

’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے

Image
Marafat illahi فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ: ’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے،پیچھے کی بجائے ان کی توجہ سامنے ہی رہتی ہے، انسان،جن اور فرشتے غرض سب طرح کی مخلوق ان کی خدمت کیلیے کمربستہ رہتی ہے-حُکم  اور علم ان کے خادم بن جاتے ہیں ،اللہ عزوجل کا فضل ان  کی غذا ہے ،انس ومحبت انہیں سیراب کرتا ہے ،اللہ  عزوجل کے فضل  کے طعام سے کھاتے ہیں اوران کی  اُنسیت کے شربت سے پیتے ہیں-اللہ عزوجل کا کلام سُننا ان کا مشغلہ(مصروفیت) ہے پس مردان خُدا ایک وادی میں ہیں اوردوسری مخلوق دوسری وادی میں-خلقِ خدکو احکام ِالہٰی سُناتے ہیں اورجن باتوں سے اللہ عزوجل نے منع فرمایا ہے ان سے روکتے ہیں،حقیقت میں وہی  حضور نبی کریم  (ﷺ) کے نائب اور  وارث ہیں ان کا کام خلقت کو دروازہ حق پر پہنچانا ہے اوراُن پر اللہ عزوجل کی حجت کو قائم کرناہے‘‘- (فتح الربانی)

انسان کائنات میں بے شمار انواع ہیں، بے شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے شمار انواع میں سے ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں سے ایک وجود ہے

Image
                      Marafat illahi انسان کائنات میں بے  شمار انواع ہیں، بے  شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے  شمار انواع  میں  سے  ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں  سے  ایک وجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں   انسان کی انفرادیت یہ ہے  کہ کائنات اور کائنات کا ہر وجود براہِ راست یا بالواسطہ انسان سے  مربوط اور اسی انسان ہی کے  لئے  موجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں  انفرادیت کے  باوجود انسان بھی اسی  ’واحدشے‘  سے  بنا ہے  جس سے  کہ کائنات اور اس کی تمام تر موجودات بنی ہیں۔ لہذا ہم خود کو سمجھ گئے  تو ہم کائنات اور اس کی موجودات کے  بنیادی فارمولے  کو سمجھ جائیں  گے۔ لہذا ہم کائنات کی  ’واحد حقیقت‘  (GRAND SINGULARITY) کا سراغ لگانے  کے  لئے  بہت اوپر آسمان کی وسعتوں  پر نظر دوڑانے  سے  پہلے  ذرا سہل طریقہ اختیار کرتے  ہوئے  اپنے  اندر جھانک کر دیکھتے...

شوقِ سفر (تڑپ و طلب)

Image
                           Marafat illahi شوقِ سفر (تڑپ و طلب)  مسافر کے لیے ضروری ہے کہ جو اسے راہِ حق پہ چلنے شوق عطا ہوا ہے وہ اسے ہمیشہ بیدار رکھے. اس سفر پہ اس کی سواری اس کا شوق ہوگا. اس کے اندر کی طلب و تڑپ ہی اسے اس راستے پہ استقامت عطا کرے گی، ورنہ اس راہ میں قدم قدم آزمائش ہے. اور اگر اندر کی طلب میں یا تڑپ میں کمی ہوگی تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گا. اندر کی تڑپ ہی مسافر کو چلائے رکھتی ہے. وہ حق تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہونا چاہتا ہے. اس کی طلب ہمیشہ محبوبِ حقیقی کے قرب میں آگے بڑھنے کی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتا رہتا ہے کہ مجھے اور قریب ہونا ہے. یہی چیز اسے مسلسل قرب میں لے جا رہی ہوتی ہے. وہ کسی ایک مقام پہ اکتفا نہیں کرتا.  جو بھی اس پہ عطا ہوتی ہے وہ اسے قبول کرتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے اس عطا یا اس مقام میں مطمئن ہو کر الجھتا نہیں ہے. وہ تو مسافر ہے اس کا کام ہی سفر ہے. سفر ہی سفر......  اس سفر کی جتنی چیزیں ہیں چاہے عبادت ہے، ذکر ہے، فکر ہے، مراقبات ہیں، تزکیہ نفس ہے، سب کچھ اس کی ...

تصور شیخ کیا ہے ؟

Image
                    Marafat illahi تصور شیخ کیا ہے  بزرگان دین نے فرمایا ہے کہ انسان طریقت میں جس چیز سے سب سے زیادہ ترقی کرتا ہے وہ مرشد کا تصور ہے ۔تصور شیخ یہ ہے کہ انسان ہر وقت اپنی نگاہ میں اپنے مرشد کی صورت مبارکہ کو رکھے ۔ہر وقت اپنے مرشد کا خیال و تصور کرے ۔یہی وہ عظیم نعمت ہے کہ جس سے انسان فناء الشیخ ،پھر فناء فی الرسول ،اور پھر فناء فی اللہ کے مقام تک پہنچتا ہے۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ جو وظیفہ مرشد کے تصور کے ساتھ ایک مرتبہ پڑھا جائے وہ بغیر تصور کے ہزار مرتبہ پڑھنے سے بہتر ہے۔اگر آپ بزرگان دین و صوفیاء کرام کی کتابوں کا یا ان کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو وہاں یہ بات واضح نظر آئے گی کہ وہ بزگان دین اپنے مرید کو جس چیز کی سب سے زیادہ تعلیم دیتے تھے وہ تصور شیخ ہی تھا حضرت اویس قرنیؓ کو اتنا عظیم مقام و مرتبہ ملا کہ سرکار ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ جب تمھاری اویس قرنیؓ سے ملاقات ہو تو ان سے اپنے لیے دعا کروانا ۔حضرت اویس قرنیؓ کے پاس وہ کون سی عظیم عبادت تھی جس کی وجہ سے آپ کو اتنا عظیم مقام ملا تو بزگان دین نے فرمایا ...

اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بیان کرنا شروع کر دیں تو؟

Image
Marafat illahi  اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بیان کرنا شروع کر دیں تو؟

کراں میں نظارہ جدوں اُودھی تصویر دا ہوندا اے نظارہ مینوں ربِ قدیر دا

Image
Marafat illahi                    کراں میں نظارہ جدوں اُودھی تصویر دا ہوندا اے نظارہ مینوں ربِ قدیر دا

میرے کوزہ گر کوئی ورد کر میرے حال پر اب کرم بھی ہو مجھے شکل کوئی عطاء تو ہو مجھے گھومنے کا صلہ ملے ❤

Image
Marafat illahi                        میرے کوزہ گر کوئی ورد کر  میرے حال پر اب کرم بھی ہو  مجھے شکل کوئی عطاء تو ہو  مجھے گھومنے کا صلہ ملے ❤

اور کہا مُرشد نے " مُرشد کبھی کچھ تعلیم نہیں دیتا کسی کو کچھ پڑھاتا

Image
Marafat illahi                              اور کہا مُرشد نے " مُرشد کبھی کچھ تعلیم نہیں دیتا کسی کو کچھ پڑھاتا نہیں ,مطلب اس سینس میں  جس سینس میں ہم ٹیچنگ کو یا پڑھانے کو جانتے ہیں ! وہ آپ کو کچھ دیتا نہیں مرشد کا واحد کام ہوتا ہے.  کہ آپ سے اس آپ کو الگ کر دیتا ہے جسے آپ نے اپنا آپ سمجھنا شروع کر دیا تھا،  وہ تمہیں اور تمہارے سچ کو الگ کر دیتا ہے وہ سچ جس سے أپ روح کی گہری سطح پر بخوبی آشنا ہوتے ہیں' حقیقی مرشد تمہارے اس پہلو کو بے نقاب کرتا ہے اور تم پر کھول دیتا ہے، جو بہت گہرا اور پرسکون ہے ، اگر آپ کسی مرشد کو تلاش کرتے اس تک پہنچ گئے ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں کیونکہ جو اپنے آپ کو پہچان  جاتا ہے خدا کو جان جاتا ہے ، پھر وہ اپنے آپ کو چھپا لیتا ہے اس کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہے ، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ جب بھی کہیں کوئی پھول کھلتا ہے تو اس کی خوشبو آ ہی جاتی ہے " پھول کی مہک بتا دیتی ہے کہ کوئی بے دار شخص اللہ کا  ولی یہاں موجود ہے ؟

بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک

Image
Marafat illahi  بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک* ۔۔۔ سب سے حسین ۔۔۔ 42 سال کی عمر ۔۔ جوانی ۔۔ جب اسکی میت کو قبر کے قریب کیا گیا تو لاش ہلنے لگی ۔۔ تو انکے بیٹوں نے کہا ۔۔ ہمارے ابو زندہ ہیں ۔۔ سکتہ ہو گیا ہوگا۔ ابھی زندہ ہیں ۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ فرمانے لگے ۔۔ ارے بھتیجو۔۔۔! ذندہ نہیں ہے ۔۔۔ قبر کا عذاب جلدی شروع ہو گیا ہے ۔۔ چھپاؤ جلدی چھپاؤ ۔۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ جس تخت پر بیٹھے ۔۔۔ اس پر سلمان تھا ۔۔۔ اس پر ولید تھا ۔۔۔ اس پر عبدالملک تھا ۔۔۔ ان تینوں نے اپنے من کو راضی کیا ۔۔۔ عمر بن عبدالعزيزؒ نے اپنے رب کو راضی کیا ۔۔۔ جب عمر بن عبدالعزيزؒ کا وقت آیا ۔ انہوں نے رضا بن ہیبہ سے فرمایا کہ میں نے عبدالملک بن مروان (چاچا ۔ سسر ) انکی بیٹی فاطمہ سے شادی ہوئی تھی ۔۔۔ میں نے انکو (عبدالملک بن مروان) کو قبر میں اتارا ۔۔۔ کفن کی گرہ کھول کر دیکھا تو انکا چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا اور رنگ کالا سیاہ پڑ چکا تھا ۔۔۔ عبدالملک بن مروان گورا چٹا تھا ۔۔۔ گال سرخ ۔۔۔ آخر کالا ۔۔۔ پھر میں نے ولید کو قبر میں اتارا ۔۔ اسکا بیٹا۔۔۔ اسنے 10 سال حکومت کی ۔۔ اسنے 21 سال حکومت کی (ولید بن ...

آج کی صوفیانہ تعلیم 💚 کتاب زات

Image
Marafat illahi                   آج کی صوفیانہ تعلیم 💚💚 کتاب ذات!! اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ سچ کیا ہے تو کتابوں سے چھٹکارا حاصل کرو اور کتاب ذات کا مطالعہ کرو، اصولوں کو کوئی وزن دو اور نہ ہی واہموں سے راحت کشید کرو ___ بس اپنے آپ میں جھانکو .نفس اور  شیطان میں کچھ فرق ہوتا ہے اور وہ بنیادی فرق جنید بغدادىؒ نے ہمیں واضح کیا- جب ان سے پوچھا گیا کہ استاد محترم نفس میں اور فتنہء شیطان میں کیا فرق ہے تو انہوں نے کہا: "کہ شیطان جگہ بدلتا ہے، وہ ایک مقام پر نہیں ٹھہرتا اور وقت ضائع نہیں کرتا - اگر ایک جگہ اس سے آپ بچ نکلو تو دوسری جگہ جا کے داؤ لگا دیتا ہے- اگر آپ روپے سے بچ نکلے ہو تو کسی اور شہوت کے رخ میں آپ کو ڈال دیتا ہے- مگر نفس وہ خراب کار ہے جو مستقل اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے اور کسی خواہش اور آرزو کے ذریعے یہ بار بار آپ پر اسی چیز کا حملہ کرتا ہے جس سے آپ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو-" یہ بنیادی فرق ہے وسوسہء شیطان میں اور نفس میں - ‏نفس! صدیوں کے تجربات کا حامل ہونے کی وجہ سے ایک ہولناک مجموعی طاقت ہے جس پر کوئی فرد بغیر 'خدا' غ...

بادشاہ ایک درویش کے پاس گیا جو کسی خاص ورد میں مصروف تھا

Image
Marafat illahi                                     بادشاہ ایک درویش کے پاس گیا جو کسی خاص ورد میں مصروف تھا بادشاہ نے اس درویش سے اس ورد کی بابت دریافت کیا تو درویش نے بتایا کہ یہ ورد ایک خاص  مقصد کے لئے متحرک کرتا ہے، بادشاہ نے درویش سے کہا کہ مجھے بھی اس ورد کی تعلیم دو، تو درویش نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ بادشاہ یہ سن کر وہاں سے غصے میں  رخصت ہوا اور اس نے اسی درویش کو اپنے دربار میں بلایا اور اسکو کہنے لگا کہ میں نے تیرا ورد کسی اور سے سیکھ تو لیا ہے لیکن جس عمل کا تُو نے ذکر کیا تھا ۔ وہ عمل میرا پورا نہیں ہو رہا ۔ اب تُو مجھے بتا کہ ایسا کیوں ہے اور اسکا حل کیا ہے یعنی میں اس ورد کو پڑھنے میں کہاں غلطی کر رہا ھوں اور اگر تُو نے مجھے نہ  بتایا تو سزا کے لئے تیار ھو جا۔ درویش یہ بات سن کر مسکرایا اور بادشاہ کے پاس کھڑئے ھوئے سپاھی کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کو فوراً گرفتار کر لے۔ سپاھی اور بادشاہ دونوں نے حیرت سے درویش کو دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ شاید بادشاہ کے خوف سے...

🐪 *اونٹ اور درود شریف*

Marafat illahi 🐪 *اونٹ اور درود شریف* *ایک بار حضور نبی اکرم ﷺ مومنین کو صدقہ کی تلقین فرمارہے تھے کہ ایک اعرابی آپہنچا جس کے پاس بڑا خوبصورت اونٹ تھا۔ بڑا خوش رفتار اور خوش خرام۔ اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کردیا۔ سحری کے وقت جب حضور اکرم ﷺ گھر سے نکلے تو یہ اونٹ فصیح و بلیغ انداز میں پڑھ رہا تھا۔* 🐪💦 *اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَازَیْنَ الْقِیَامۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ الْبَشَرِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَافَاتِحَ الْجَنَانِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَافِعَ الْاُمَمِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاقَائِدَ الْمُؤمِنِیْنَ فِی الْقِیَامَۃِ اِلَی الْجَنَّۃِ‘ اَلسَّلَامُ عَلَیْک یَارَسُوْلَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔* *حضور ﷺ نے یہ کلمات سنتے ہی اونٹ کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگا۔ یارسول اللہ ﷺ میں اس اعرابی کے پاس تھا وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا۔ رات کے وقت جنگل کے جانور میرے اردگرد جمع ہوجاتے اور کہتے ’’اسے نہ چھیڑنا یہ حضور ﷺ کی سواری ہے‘‘ میں اس دن سے آپ ﷺ کے ہجر و فراق میں تھا۔ آج اللہ نے احسان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ تک پہنچا ہوں۔ آپ ﷺ اونٹ کی یہ باتیں سن...

کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں

Image
Marafat illahi                                                            کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔!!  کشف علم کے پانچ غیر مادی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو حواس خمسہ کے بغیر حاصل ہو تا ہے

کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔!! کشف علم کے پانچ غیر مادی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو حواس خمسہ کے بغیر حاصل ہو تا ہے

Image
Marafat illahi                                       کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔!!  کشف علم کے پانچ غیر مادی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو حواس خمسہ کے بغیر حاصل ہو تا ہے  پہلا درجہ ” فراست “ دوسرا ” حدس “ تیسرا ” کشف “ چوتھا ” الہام “ اور پانچواں درجہ ” وحی “ کا ہے.روحانیت میں کشف ایک ایسی صلاحیت ہے،  جس کی بدولت اس صلاحیت کا حامل کائنات میں کسی بھی جگہ طیر و سیر کر سکتا ہے۔ کشف کے ذریعے، کشف کرنے والے فرشتوں، پیغمبروں اور ولیوں سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ کشف کرنے والے کو کھلی یا بند آنکھوں سے کشف کرنے پر قادر ہوتا ہے، تاہم یہ کشف کرنے والے کے مراتب و مقامات پر منحصر ہے۔ کشف کی سو سے زائد اقسام ہیں۔ کشف کرنے والے کا مادی جسم دنیا میں اپنی جگہ پر متمکن ہوتا ہے جبکہ تخیل کی پرواز، اُس کو کسی بھی جگہ لے جاسکتی، اس عمل کے دوران کشف کرنے والے کو اپنا مادی جسم بھی نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مادی جسم کو چھوڑ کر روحانی جسم کے ذریعے سفر کر رہا ہے۔چونکہ کشف...

ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ . ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ

Image
Marafat illahi              ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ . ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ ﺑﻠﮭﮯ ﺷﺎﮦ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺷﺎﮦ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﮐﻮ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎﮐﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻣﻌﯿﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﭼﺸﺘﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻣﻌﯿﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﭼﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﻭﻣﯽ ﮐﻮ ﺷﻤﺲ ﺗﺒﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﮐﻮ ﺭﻭﻣﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ...... ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ... ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺻﻮﻓﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﻋﻠﯽ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﺭﺡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺭﺏ ﻣﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉ , ﺭﮨﺒﺮ ﮈﮬﻮﻧﮉ .... ﺭﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺭﮨﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ " ﻓﻘﯿﺮ , ﻓﻘﺮ ﮐﺎ ﺭﺍﺯﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ...... ﺩﻧﯿﺎ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ....