کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔!! کشف علم کے پانچ غیر مادی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو حواس خمسہ کے بغیر حاصل ہو تا ہے

Marafat illahi
             
  
                     کشف کے معنی کھولنے اور پردہ اٹھانے کے ہیں۔!!
 کشف علم کے پانچ غیر مادی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو حواس خمسہ کے بغیر حاصل ہو تا ہے
 پہلا درجہ ” فراست “ دوسرا ” حدس “ تیسرا ” کشف “ چوتھا ” الہام “ اور پانچواں درجہ ” وحی “ کا ہے.روحانیت میں کشف ایک ایسی صلاحیت ہے،
 جس کی بدولت اس صلاحیت کا حامل کائنات میں کسی بھی جگہ طیر و سیر کر سکتا ہے۔ کشف کے ذریعے، کشف کرنے والے فرشتوں، پیغمبروں اور ولیوں سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ کشف کرنے والے کو کھلی یا بند آنکھوں سے کشف کرنے پر قادر ہوتا ہے، تاہم یہ کشف کرنے والے کے مراتب و مقامات پر منحصر ہے۔ کشف کی سو سے زائد اقسام ہیں۔ کشف کرنے والے کا مادی جسم دنیا میں اپنی جگہ پر متمکن ہوتا ہے جبکہ تخیل کی پرواز، اُس کو کسی بھی جگہ لے جاسکتی، اس عمل کے دوران کشف کرنے والے کو اپنا مادی جسم بھی نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مادی جسم کو چھوڑ کر روحانی جسم کے ذریعے سفر کر رہا ہے۔چونکہ کشف ظلمانی اور رحمانی دونوں طرح کا ہو سکتا ہے.
 اور صاحب مرتبہ لوگ ہی اس میں تمیز کرسکتے ہیں۔ اسی لیے 
کشف کو روحانی مدارج کی دلیل نہیں سمجھا جاتا۔حدس کے بعد کشف کا درجہ ہے
 انسان کے نیک اعمال اور حسن اخلاق کے باعث مادیت کے ظلمانی پردہ چاک ہوجاتے ہیں اور مادی اشیاء روحانی عالم میں مشاہدہ کے طور پر نظر آنے لگتی ہیں زیادہ تر ان کا حصول رؤیا اور خواب میں ہوتا ہے لیکن ایک حالت سونے اور جاگنے کے درمیان بھی ہوتی ہے جس میں صاحب کشف کے حواس سونے والے کی طرح بیکار ہوجاتے ہیں اور رؤیا کی حالت بیدار ہوجاتی ہے اور حواس کا تعطل بلاریب اختیار نہیں ہوتا 
اگرچہ اس کو حاصل کرنا کسبی اور اختیاری امر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی