Posts

Showing posts with the label what is spertuailism

مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح،

Image
Marafat illahi اللّٰہ تک پہنچنا کتاب: فتوح الغیب مؤلف: شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اے سالک ! یہ اچھی طرح جان لے کہ  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنا کسی بندے تک پہنچنے کی طرح نہیں کیونکہ کوئی شے اُس جیسی نہیں، وہ  سب کچھ سننے والا اور وہ سب کچھ دیکھنے والا ہے، وہ  اس بات سے بالا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کے ساتھ اسے تشبیہہ دی جائے یا اس کی پیدا کی ہوئی اشیاء کو اس جیسا تصور کیا  جائے، اُس تک پہنچنا اُس تک پہنچنے والوں کو ہی معلوم ہے،  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو  اُسکی مخلوق، اپنی ہوائے  نفس اور خواہشات  سے بالکل باہر نکل جائے اور پھر  اللّٰــــــــــــــــــــہ کے فعل اور ارادے پر ثابت قدم ہو جائے، ہر وہ شخص جو دوست  (اللّٰــــــــــــــــــــہ) سے ملنے والا ہے وہ  اس دوست (اللّٰــــــــــــــــــــہ) کی دوستی کے  مرتبے میں  دوسرے دوست سے جدا ہے، اللّٰــــــــــــــــــــہ اپنی دوستی کے مرتبے میں اپنے ایک دوست کو اپنے  کسی دوسرے دوست کے...

وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ؟

Image
Marafat illahi حضرت ذوالنون مصری (رحمۃ اللہ علیہ) کے تائب ہونے کا واقعہ عجیب و غریب ہے اور یہ کہ کسی شخص نے آپ کو اطلاع پہنچائی کے فلاں مقام پر فلاں نوجوان عابد ہے اور جب آپ اس سے نیاز حاصل کرنے پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ جب تک تو عبادت الہی میں میری ہمنوائی  نہیں کرے گا۔ میں تجھے یوں ہی اذیت دیتا رہوں گا حتی کہ تیری موت واقع ہو جائے گی۔یہ واقعہ دیکھ کر آپ کو اس پر ایسا ترس آیا کہ رونے لگے لگے اور جب نوجوان عابد نے پوچھا کہ یہ کون ہے جو ایک گنہگار پر ترس کھا کر رو رہا ہے ۔یہ سن کر آپ نے اس کے سامنے جا کر سلام کیا اور مزاج پرسی کی۔ اس نے بتایا کہ جو کہ یہ بدن عبادت الہی پر آمادہ نہیں ہے اس لیے یہ سزا دے رہا ہوں۔آپ نے کہا کہ مجھے تو یہ گمان ہوا کہ شاید تم نے کسی کو قتل کر دیا ہے یا کوئی گناہ عظیم سرزد ہوگیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ تمام گناہ معاف سے اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں مخلوق سے رسم و راہ کو بہت بڑا گناہ تصور کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ تم تو واقعی بہت بڑے زہد ہو۔اس نے جواب دیا کہ اگر تم کسی بڑے زہد کو دیکھنا چاہتے ...

انسان کی آنکھ دل کی کھڑکی ہوتی ہے

Image
Marafat illahi  .        ایک کمرے کی اچھی طرح صفائی کر دیں,  مکمل طور پر صاف کرنے کے بعد کمرے کو بند کر دیا جائے,  مگر اس کی کوئی ایک کھڑکی یا روشن دان  کھلا رہ جائے  تو کچھ عرصہ بعد کمرے میں دوبارہ مٹی اور گرد جمع ہو جائے گی!             انسان کی آنکھ دل کی کھڑکی ہوتی ہے,   آنکھ کے ذریعے کی جانے والی بدنظری ہمارے دل کو گندہ اور ناپاک کر دیتی ہے؛   ہماری نماز میں سے  حلاوت و سکون ختم ہو جاتا ہے'؛روحانیت کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے ؛  اور قلب سلیم نہیں مل سکتا؛  اگر ایمان میں شہد کی مانند مٹھاس چاہتے ہو تو اپنی نظر کی حفاظت رکھنا چاہئے؛؛⁦✍️⁩!!!

سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو

Image
Marafat illahi   قلندر  آزاد درویشوں کی ایک خاص قسم جو روحانیت کی طرف مائل ہو۔ صوفیانہ فلسفہ کا ایک اہم گروہ۔سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو۔ ۔!!! وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دنیوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر۔ اصطلاح میں قلندر وہ شخص ہے جو دونوں جہان سے پاک اور آزاد رہے اگر ذرا بھی اسے دنیا سے لگاو ہو تو وہ سلسلہ قلندریہ سے دور اور صاحبان غرور میں شامل ہے  قلندر  اور صوفی میں یہ فرق ہے کہ قلندر نہایت آزاد اور مجرد عن العلائق ہوتا ہے اور کوئی نیکی ظاہر نہیں کرتا اور کوئی بدی چھپا کر نہیں رکھتا ہے قلندر اور صوفی ہم معنی ہالفاظ ہیں۔ قلندر وہ ہے جو حالات اور مقامات و کرامات سے تجاوز کر جائے خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں کہ موانعات سے مجرد ہو کر اپنے آپ کو گم کر دینے کا نام قلندری ہے۔  شاہ نعمت اللہ ولی فرماتے ہیں کہ صوفی منتہی جب اپنے مقصد پر جا پہنچتا ہے قلندر ہو جاتا ہے۔ اللّٰ...

ﻭﻻﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟

Image
Marafat illahi ﻭﻻﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ, ﺻﺎﻟﺢ, ﻣﺘﻘﯽ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ, ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ, ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﺴﺐِ ﺣﺎﻝ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺣﻞ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ،ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﯽ۔ ۔ ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺁﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﮯ؟۔ ۔ ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ۔ ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ ۔ ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ, ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺁﭖ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮﮮ ﺭﮨﮯ, ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﺎﻻ ﮨﮯ۔ ﺻﺮﻑ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿﮧ ﻭﻗﺖ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞﻭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﮐﻮ ﻧﻤﭩﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ, ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍﺩﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ, ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ۔ ۔ ۔ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ۔ ۔ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ, ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﮐ...

دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے

Marafat illahi دو بھوکھے افراد حضرت رابعہ بصری(رحمۃ اللہ علیہا) کے یہاں بغرض ملاقات حاضر ہوئے اور باہمی گفتگو کرنے لگے کہ اگر رابعہ اس وقت کھانا پیش کردے تو بہت اچھا ہو کیونکہ ان کے یہاں رزق حلال میسر آجائے گا۔اور آپ کے یہاں اس وقت صرف دو ہی روٹیاں تھیں وہیں ان کے سامنے رکھ دیں۔دریں اثنا کسی سائل نے سوال کیا تو آپ نے دونوں روٹیاں اٹھا کر اس کو دے دیں یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے لیکن کچھ ہی وقفہ کے بعد ایک کنیز بہت سی گرم روٹیاں لیے ہوئے حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمیں یہ میری مالکہ نے بھجوائی ہیں۔اور جب آپ نے ان روٹیاں کا شمار کیا تو وہ تعداد میں 18 تھیں۔یہ دیکھ کر قمیض نے وثوق کے ساتھ عرض کیا یہ آپ ہی کے لئے بھجوائی ہیں ہیں۔مگر آپ نے کنیز کے مسلسل اصرار کے باوجود واپس کردیں۔اور جب کنیز نے اپنی مالکہ سے واقعہ بیان کیا تو اس نے حکم دیا کہ اس میں مزید دو روٹیوں کا اضافہ کر کے لے جاؤ۔چنانچہ جب آپ نے 20 روٹیاں شمار کر لیں تب جب ان مہمانوں کے سامنے رکھا اور وہ محو حیرت ہو کر کھانے میں مصروف ہوگئے اور جب فراغت طعام کے بعد رابعہ بصری سے واقعے کی نوعیت معلوم کرنا چاہی تو فرمایا کہ جب تم یہاں حاضر...

ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ

Image
Marafat illahi ایک درویش، ایک آدمی کے پاس گیا کہ اللہ کے لئے خیرات دو! اس نے کہا بابا جی ٹھہر جاؤ، ابھی میں کام میں لگا ہوا ہوں، کافی دیر گزر گئی، اس نے پھر سوال کیا، کہنے لگا، لو جی تھوڑا سا کام اور رہ گیا، کام سے فارغ ہو کے تمہیں دوں گا۔ ابھی میں مصروف ہوں۔ وہ درویش غصے میں آگیا اور کہنے لگا کہ تم اتنے مصروف ہو تو، مرو گے کیسے؟ وہ بھی آگے بولا جیسے تُو مرے گا! درویش نے کہا "ہماری موت تو اتنی آسان ہے، تُو بتا کیسے مرے گا؟ دیکھو، میں تو یوں مروں گا۔"درویش نے ایک چادر بچھائی، کلمہ پڑھا، اور مر گیا۔ درویش کے مرنے کے بعد اس آدمی پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ ساری دکان لٹا دی اور ہر شئے چھوڑ چھاڑ کے جنگلوں میں نکل گیا۔ وہ فرید الدین ایک عام آدمی تھا۔ اب وہ فریدالدین عطار ہو گئے۔ ان پر راز آشکار ہو گیا۔ وہ بات سمجھ گئے کہ فقیر کون تھا؟ فقیر یہ بتانے کے لئے آیا تھا کہ تُو اتنا مصروف ہے کہ تجھے مرنے کی سمجھ نہیں آ رہی، تو پھر موت کے وقت کیسے مرے گا۔ اگر آپ کو موت کے وقت عزرائیل سے تھوڑی سی مہلت ملنے کا امکان ہو تو آپ اسے بھی یہ کہہ دو گے کہ ٹھہر جاؤ، ابھی دوچار خطوں کے جواب دینے ہیں، ...

تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ

Image
Marafat illahi مَیں شہسوار ہوں، مَیں شہسوار ہوں،مَیں شہسوار ہوں،تمام غوث و قطب میری زیربار سواریاں ہیں‘‘-(محک الفقرکلاں) ’’جان لے کہ عرش سے ستر منزل اوپر مرتبۂ قطب ہے اور قطب سے ستر منزل اوپر مرتبۂ غوث ہے لیکن غوث و قطب کے یہ مراتب انانیت ِنفس و کشف و کرامات کے مرتبے ہیں جو غرقِ وحدانیت ِذات کے مراتب سے بے خبر ہیں-فقیر اِن کمتر مراتب کی طرف دیکھتا ہی نہیں کہ اِن کا تعلق خواہشاتِ نفس سے ہے-سچا طالب مرید طلب ِمولیٰ میں شاد رہتا ہے ‘‘-(اسرارالقادری) جس طرح دنیاداری میں مختلف عہدے اور پوسٹیں ہوتی ہیں ،اسی طرح تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ صاحبِ فقراور عاشق کا ہوتا ہے جیساکہ سُلطان العارفین حضرت سخی سُلطان باھو(رحمۃ اللہ علیہ) ارشادفرماتے ہیں: ’’غوث و قطب اگر تمام عمر بھی مجاہدۂ ریاضت میں مصروف رہیں تو مرتبۂ فقر کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مرتبۂ فقر کی ابتدا شرفِ لقاہے اور شرفِ لقا کا حصول فنائے نفس سے ہے اورفنائے نفس کا حصول زندگی ٔقلب و بقائے روح سے ہے‘‘-(امیرالکونین) آپ (رحمۃ اللہ علیہ) خود اپنے...

ﻋﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﮯﺟﮭﮕﮍﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ہے

Image
                   Marafat illahi ﻋﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﮯﺟﮭﮕﮍﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ہے۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﻠﯽٰ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍُﺱﮐﮯ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﮯﻟﯿﺌﮯ ﭼﻼ۔ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺍُﺱﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ۔ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﮐﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺳﮑﮯ۔ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺗﯽ۔ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ ﭘُﺮ ﺗﮭﺎ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﻭﮦﺍﻭﻧﭩﻨﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺑﮯﮨﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﻋﻘﻞ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ جبکہ ﺳﻮﺍﺭﯼﮐﻮ ﮨﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺟﺐ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﮩﺎﺭ ﮈﮬﯿﻠﯽ ﮨﮯ ﻓﻮﺭﺍََ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﺟﺐ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻮﺵ ﺁﺗﺎ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﻣﯿﻠﻮﮞ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺭﮨﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﮭﺎ ﺩﻭ ﻣُﺘّﻀﺎﺩ ﺳﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯﻋﺎﺷﻘﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﺍﻭﻧﭩﻨﯽﮐﮯ...

’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے

Image
Marafat illahi فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ: ’’اولیاء اللہ جلال اورجمال کے درمیان رہتے ہیں،دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے،پیچھے کی بجائے ان کی توجہ سامنے ہی رہتی ہے، انسان،جن اور فرشتے غرض سب طرح کی مخلوق ان کی خدمت کیلیے کمربستہ رہتی ہے-حُکم  اور علم ان کے خادم بن جاتے ہیں ،اللہ عزوجل کا فضل ان  کی غذا ہے ،انس ومحبت انہیں سیراب کرتا ہے ،اللہ  عزوجل کے فضل  کے طعام سے کھاتے ہیں اوران کی  اُنسیت کے شربت سے پیتے ہیں-اللہ عزوجل کا کلام سُننا ان کا مشغلہ(مصروفیت) ہے پس مردان خُدا ایک وادی میں ہیں اوردوسری مخلوق دوسری وادی میں-خلقِ خدکو احکام ِالہٰی سُناتے ہیں اورجن باتوں سے اللہ عزوجل نے منع فرمایا ہے ان سے روکتے ہیں،حقیقت میں وہی  حضور نبی کریم  (ﷺ) کے نائب اور  وارث ہیں ان کا کام خلقت کو دروازہ حق پر پہنچانا ہے اوراُن پر اللہ عزوجل کی حجت کو قائم کرناہے‘‘- (فتح الربانی)

انسان کائنات میں بے شمار انواع ہیں، بے شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے شمار انواع میں سے ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں سے ایک وجود ہے

Image
                      Marafat illahi انسان کائنات میں بے  شمار انواع ہیں، بے  شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے  شمار انواع  میں  سے  ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں  سے  ایک وجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں   انسان کی انفرادیت یہ ہے  کہ کائنات اور کائنات کا ہر وجود براہِ راست یا بالواسطہ انسان سے  مربوط اور اسی انسان ہی کے  لئے  موجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں  انفرادیت کے  باوجود انسان بھی اسی  ’واحدشے‘  سے  بنا ہے  جس سے  کہ کائنات اور اس کی تمام تر موجودات بنی ہیں۔ لہذا ہم خود کو سمجھ گئے  تو ہم کائنات اور اس کی موجودات کے  بنیادی فارمولے  کو سمجھ جائیں  گے۔ لہذا ہم کائنات کی  ’واحد حقیقت‘  (GRAND SINGULARITY) کا سراغ لگانے  کے  لئے  بہت اوپر آسمان کی وسعتوں  پر نظر دوڑانے  سے  پہلے  ذرا سہل طریقہ اختیار کرتے  ہوئے  اپنے  اندر جھانک کر دیکھتے...

شوقِ سفر (تڑپ و طلب)

Image
                           Marafat illahi شوقِ سفر (تڑپ و طلب)  مسافر کے لیے ضروری ہے کہ جو اسے راہِ حق پہ چلنے شوق عطا ہوا ہے وہ اسے ہمیشہ بیدار رکھے. اس سفر پہ اس کی سواری اس کا شوق ہوگا. اس کے اندر کی طلب و تڑپ ہی اسے اس راستے پہ استقامت عطا کرے گی، ورنہ اس راہ میں قدم قدم آزمائش ہے. اور اگر اندر کی طلب میں یا تڑپ میں کمی ہوگی تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گا. اندر کی تڑپ ہی مسافر کو چلائے رکھتی ہے. وہ حق تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہونا چاہتا ہے. اس کی طلب ہمیشہ محبوبِ حقیقی کے قرب میں آگے بڑھنے کی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتا رہتا ہے کہ مجھے اور قریب ہونا ہے. یہی چیز اسے مسلسل قرب میں لے جا رہی ہوتی ہے. وہ کسی ایک مقام پہ اکتفا نہیں کرتا.  جو بھی اس پہ عطا ہوتی ہے وہ اسے قبول کرتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے اس عطا یا اس مقام میں مطمئن ہو کر الجھتا نہیں ہے. وہ تو مسافر ہے اس کا کام ہی سفر ہے. سفر ہی سفر......  اس سفر کی جتنی چیزیں ہیں چاہے عبادت ہے، ذکر ہے، فکر ہے، مراقبات ہیں، تزکیہ نفس ہے، سب کچھ اس کی ...

تصور شیخ کیا ہے ؟

Image
                    Marafat illahi تصور شیخ کیا ہے  بزرگان دین نے فرمایا ہے کہ انسان طریقت میں جس چیز سے سب سے زیادہ ترقی کرتا ہے وہ مرشد کا تصور ہے ۔تصور شیخ یہ ہے کہ انسان ہر وقت اپنی نگاہ میں اپنے مرشد کی صورت مبارکہ کو رکھے ۔ہر وقت اپنے مرشد کا خیال و تصور کرے ۔یہی وہ عظیم نعمت ہے کہ جس سے انسان فناء الشیخ ،پھر فناء فی الرسول ،اور پھر فناء فی اللہ کے مقام تک پہنچتا ہے۔صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ جو وظیفہ مرشد کے تصور کے ساتھ ایک مرتبہ پڑھا جائے وہ بغیر تصور کے ہزار مرتبہ پڑھنے سے بہتر ہے۔اگر آپ بزرگان دین و صوفیاء کرام کی کتابوں کا یا ان کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو وہاں یہ بات واضح نظر آئے گی کہ وہ بزگان دین اپنے مرید کو جس چیز کی سب سے زیادہ تعلیم دیتے تھے وہ تصور شیخ ہی تھا حضرت اویس قرنیؓ کو اتنا عظیم مقام و مرتبہ ملا کہ سرکار ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ جب تمھاری اویس قرنیؓ سے ملاقات ہو تو ان سے اپنے لیے دعا کروانا ۔حضرت اویس قرنیؓ کے پاس وہ کون سی عظیم عبادت تھی جس کی وجہ سے آپ کو اتنا عظیم مقام ملا تو بزگان دین نے فرمایا ...

اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بیان کرنا شروع کر دیں تو؟

Image
Marafat illahi  اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بیان کرنا شروع کر دیں تو؟

کراں میں نظارہ جدوں اُودھی تصویر دا ہوندا اے نظارہ مینوں ربِ قدیر دا

Image
Marafat illahi                    کراں میں نظارہ جدوں اُودھی تصویر دا ہوندا اے نظارہ مینوں ربِ قدیر دا

میرے کوزہ گر کوئی ورد کر میرے حال پر اب کرم بھی ہو مجھے شکل کوئی عطاء تو ہو مجھے گھومنے کا صلہ ملے ❤

Image
Marafat illahi                        میرے کوزہ گر کوئی ورد کر  میرے حال پر اب کرم بھی ہو  مجھے شکل کوئی عطاء تو ہو  مجھے گھومنے کا صلہ ملے ❤

اور کہا مُرشد نے " مُرشد کبھی کچھ تعلیم نہیں دیتا کسی کو کچھ پڑھاتا

Image
Marafat illahi                              اور کہا مُرشد نے " مُرشد کبھی کچھ تعلیم نہیں دیتا کسی کو کچھ پڑھاتا نہیں ,مطلب اس سینس میں  جس سینس میں ہم ٹیچنگ کو یا پڑھانے کو جانتے ہیں ! وہ آپ کو کچھ دیتا نہیں مرشد کا واحد کام ہوتا ہے.  کہ آپ سے اس آپ کو الگ کر دیتا ہے جسے آپ نے اپنا آپ سمجھنا شروع کر دیا تھا،  وہ تمہیں اور تمہارے سچ کو الگ کر دیتا ہے وہ سچ جس سے أپ روح کی گہری سطح پر بخوبی آشنا ہوتے ہیں' حقیقی مرشد تمہارے اس پہلو کو بے نقاب کرتا ہے اور تم پر کھول دیتا ہے، جو بہت گہرا اور پرسکون ہے ، اگر آپ کسی مرشد کو تلاش کرتے اس تک پہنچ گئے ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں کیونکہ جو اپنے آپ کو پہچان  جاتا ہے خدا کو جان جاتا ہے ، پھر وہ اپنے آپ کو چھپا لیتا ہے اس کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہے ، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ جب بھی کہیں کوئی پھول کھلتا ہے تو اس کی خوشبو آ ہی جاتی ہے " پھول کی مہک بتا دیتی ہے کہ کوئی بے دار شخص اللہ کا  ولی یہاں موجود ہے ؟

بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک

Image
Marafat illahi  بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک* ۔۔۔ سب سے حسین ۔۔۔ 42 سال کی عمر ۔۔ جوانی ۔۔ جب اسکی میت کو قبر کے قریب کیا گیا تو لاش ہلنے لگی ۔۔ تو انکے بیٹوں نے کہا ۔۔ ہمارے ابو زندہ ہیں ۔۔ سکتہ ہو گیا ہوگا۔ ابھی زندہ ہیں ۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ فرمانے لگے ۔۔ ارے بھتیجو۔۔۔! ذندہ نہیں ہے ۔۔۔ قبر کا عذاب جلدی شروع ہو گیا ہے ۔۔ چھپاؤ جلدی چھپاؤ ۔۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ جس تخت پر بیٹھے ۔۔۔ اس پر سلمان تھا ۔۔۔ اس پر ولید تھا ۔۔۔ اس پر عبدالملک تھا ۔۔۔ ان تینوں نے اپنے من کو راضی کیا ۔۔۔ عمر بن عبدالعزيزؒ نے اپنے رب کو راضی کیا ۔۔۔ جب عمر بن عبدالعزيزؒ کا وقت آیا ۔ انہوں نے رضا بن ہیبہ سے فرمایا کہ میں نے عبدالملک بن مروان (چاچا ۔ سسر ) انکی بیٹی فاطمہ سے شادی ہوئی تھی ۔۔۔ میں نے انکو (عبدالملک بن مروان) کو قبر میں اتارا ۔۔۔ کفن کی گرہ کھول کر دیکھا تو انکا چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا اور رنگ کالا سیاہ پڑ چکا تھا ۔۔۔ عبدالملک بن مروان گورا چٹا تھا ۔۔۔ گال سرخ ۔۔۔ آخر کالا ۔۔۔ پھر میں نے ولید کو قبر میں اتارا ۔۔ اسکا بیٹا۔۔۔ اسنے 10 سال حکومت کی ۔۔ اسنے 21 سال حکومت کی (ولید بن ...

آج کی صوفیانہ تعلیم 💚 کتاب زات

Image
Marafat illahi                   آج کی صوفیانہ تعلیم 💚💚 کتاب ذات!! اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ سچ کیا ہے تو کتابوں سے چھٹکارا حاصل کرو اور کتاب ذات کا مطالعہ کرو، اصولوں کو کوئی وزن دو اور نہ ہی واہموں سے راحت کشید کرو ___ بس اپنے آپ میں جھانکو .نفس اور  شیطان میں کچھ فرق ہوتا ہے اور وہ بنیادی فرق جنید بغدادىؒ نے ہمیں واضح کیا- جب ان سے پوچھا گیا کہ استاد محترم نفس میں اور فتنہء شیطان میں کیا فرق ہے تو انہوں نے کہا: "کہ شیطان جگہ بدلتا ہے، وہ ایک مقام پر نہیں ٹھہرتا اور وقت ضائع نہیں کرتا - اگر ایک جگہ اس سے آپ بچ نکلو تو دوسری جگہ جا کے داؤ لگا دیتا ہے- اگر آپ روپے سے بچ نکلے ہو تو کسی اور شہوت کے رخ میں آپ کو ڈال دیتا ہے- مگر نفس وہ خراب کار ہے جو مستقل اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے اور کسی خواہش اور آرزو کے ذریعے یہ بار بار آپ پر اسی چیز کا حملہ کرتا ہے جس سے آپ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو-" یہ بنیادی فرق ہے وسوسہء شیطان میں اور نفس میں - ‏نفس! صدیوں کے تجربات کا حامل ہونے کی وجہ سے ایک ہولناک مجموعی طاقت ہے جس پر کوئی فرد بغیر 'خدا' غ...

بادشاہ ایک درویش کے پاس گیا جو کسی خاص ورد میں مصروف تھا

Image
Marafat illahi                                     بادشاہ ایک درویش کے پاس گیا جو کسی خاص ورد میں مصروف تھا بادشاہ نے اس درویش سے اس ورد کی بابت دریافت کیا تو درویش نے بتایا کہ یہ ورد ایک خاص  مقصد کے لئے متحرک کرتا ہے، بادشاہ نے درویش سے کہا کہ مجھے بھی اس ورد کی تعلیم دو، تو درویش نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ بادشاہ یہ سن کر وہاں سے غصے میں  رخصت ہوا اور اس نے اسی درویش کو اپنے دربار میں بلایا اور اسکو کہنے لگا کہ میں نے تیرا ورد کسی اور سے سیکھ تو لیا ہے لیکن جس عمل کا تُو نے ذکر کیا تھا ۔ وہ عمل میرا پورا نہیں ہو رہا ۔ اب تُو مجھے بتا کہ ایسا کیوں ہے اور اسکا حل کیا ہے یعنی میں اس ورد کو پڑھنے میں کہاں غلطی کر رہا ھوں اور اگر تُو نے مجھے نہ  بتایا تو سزا کے لئے تیار ھو جا۔ درویش یہ بات سن کر مسکرایا اور بادشاہ کے پاس کھڑئے ھوئے سپاھی کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کو فوراً گرفتار کر لے۔ سپاھی اور بادشاہ دونوں نے حیرت سے درویش کو دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ شاید بادشاہ کے خوف سے...