مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح،

Marafat illahi



اللّٰہ تک پہنچنا
کتاب: فتوح الغیب
مؤلف: شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اے سالک ! یہ اچھی طرح جان لے کہ  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنا کسی بندے تک پہنچنے کی طرح نہیں کیونکہ کوئی شے اُس جیسی نہیں، وہ  سب کچھ سننے والا اور وہ سب کچھ دیکھنے والا ہے، وہ  اس بات سے بالا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کے ساتھ اسے تشبیہہ دی جائے یا اس کی پیدا کی ہوئی اشیاء کو اس جیسا تصور کیا  جائے، اُس تک پہنچنا اُس تک پہنچنے والوں کو ہی معلوم ہے،  اللّٰــــــــــــــــــــہ تک پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو  اُسکی مخلوق، اپنی ہوائے  نفس اور خواہشات  سے بالکل باہر نکل جائے اور پھر  اللّٰــــــــــــــــــــہ کے فعل اور ارادے پر ثابت قدم ہو جائے، ہر وہ شخص جو دوست  (اللّٰــــــــــــــــــــہ) سے ملنے والا ہے وہ  اس دوست (اللّٰــــــــــــــــــــہ) کی دوستی کے  مرتبے میں  دوسرے دوست سے جدا ہے، اللّٰــــــــــــــــــــہ اپنی دوستی کے مرتبے میں اپنے ایک دوست کو اپنے  کسی دوسرے دوست کے  برابر نہیں رکھتا، اسی لئے نبیوں، رسولوں اور اولیاء میں سے ہر ایک کے ساتھ اسکی دوستی کا معاملہ جدا جدا ہو تا ہے، اس  دوستی کے معاملات میں  اللّٰــــــــــــــــــــہ  کے سوا کسی دوسرے کو اس راز کی خبر تک نہیں ہوتی،  اور نہ مرشد کے متعلق مرید کو خبر ہوتی ہے۔

 جس مرید کی قربِ حق کی طلب و  تلاش اُسکے مرشد کے دروازہ تک پہنچ  چکی ہو اور  وہ مرید اپنے مرشد کی حالت اور مرتبے تک پہنچ   گیا ہو، پس وہ مرید اپنے مرشد سے جدا کر دیا جاتا ہے، مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح، پھر  اُس بچے  کو  دو سال  کے بعد دودھ پلانے کی ضرورت نہیں رہتی، اسی طرح کسی شخص کے طلبِ نفس اور خواہش کے مٹ جانے کے بعد  اُس شخص کو خلقت کے تعلق کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اب اُس طالبِ حق کے اندر کوئی  گندگی باقی نہیں ہوتی۔

 پس اے سالک! جب تو خدا تک پہنچ جائے تو اسکے غیر سے ہمیشہ دور رہ، نفع نقصان، خوف و  امید  میں اُسکے غیر کی مداخلت  کو شامل نہ کر، بلکہ اللّٰــــــــــــــــــــہ ہی اس لائق ہے کہ اُس سے خوف کھایا جائے، اسی سے  بخشش کی امید رکھی جائے۔

🌹سلامت رہیں ســـــــلامتی چاہتے رہیں 🌹

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی