تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ

Marafat illahi




مَیں شہسوار ہوں، مَیں شہسوار ہوں،مَیں شہسوار ہوں،تمام غوث و قطب میری زیربار سواریاں ہیں‘‘-(محک الفقرکلاں)

’’جان لے کہ عرش سے ستر منزل اوپر مرتبۂ قطب ہے اور قطب سے ستر منزل اوپر مرتبۂ غوث ہے لیکن غوث و قطب کے یہ مراتب انانیت ِنفس و کشف و کرامات کے مرتبے ہیں جو غرقِ وحدانیت ِذات کے مراتب سے بے خبر ہیں-فقیر اِن کمتر مراتب کی طرف دیکھتا ہی نہیں کہ اِن کا تعلق خواہشاتِ نفس سے ہے-سچا طالب مرید طلب ِمولیٰ میں شاد رہتا ہے ‘‘-(اسرارالقادری)

جس طرح دنیاداری میں مختلف عہدے اور پوسٹیں ہوتی ہیں ،اسی طرح تصوف میں بھی مختلف مقامات و منازل ہوتی ہیں ،انہی میں سے غوث وقطب بھی ہیں-لیکن ان تمام مراتب میں سب سے افضل مرتبہ صاحبِ فقراور عاشق کا ہوتا ہے جیساکہ سُلطان العارفین حضرت سخی سُلطان باھو(رحمۃ اللہ علیہ) ارشادفرماتے ہیں:

’’غوث و قطب اگر تمام عمر بھی مجاہدۂ ریاضت میں مصروف رہیں تو مرتبۂ فقر کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مرتبۂ فقر کی ابتدا شرفِ لقاہے اور شرفِ لقا کا حصول فنائے نفس سے ہے اورفنائے نفس کا حصول زندگی ٔقلب و بقائے روح سے ہے‘‘-(امیرالکونین)

آپ (رحمۃ اللہ علیہ) خود اپنے بارے میں ارشادفرماتے ہیں:

’’زاہد وصالِ حق سے بہت دور ہے، وہ عاشق کے مراتب ِوصل سے بے خبر ہے کہ اُس کی تگ و دَو اِسی جہان تک محدود ہے، اِس کے برعکس مَیں وحدت ِحق کا پروانہ ہوں، اپنی جان سے بیگانہ ہوں-بالائے عرش میری شان و شوکت کے ڈنکے بجتے ہیں کہ میری گزر بسر وحدتِ حق کے اندر ہے‘‘-(عین الفقر)

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی