انسان کائنات میں بے شمار انواع ہیں، بے شمار موجودات ہیں۔ انسان کائنات کی بے شمار انواع میں سے ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں سے ایک وجود ہے

                      Marafat illahi


انسان
کائنات میں بے  شمار انواع ہیں، بے  شمار موجودات ہیں۔
انسان کائنات کی بے  شمار انواع  میں  سے  ایک نوع اور لا تعداد موجودات میں  سے  ایک وجود ہے۔ لیکن تمام موجودات میں   انسان کی انفرادیت یہ ہے  کہ کائنات اور کائنات کا ہر وجود براہِ راست یا بالواسطہ انسان سے  مربوط اور اسی انسان ہی کے  لئے  موجود ہے۔
لیکن تمام موجودات میں  انفرادیت کے  باوجود انسان بھی اسی  ’واحدشے‘  سے  بنا ہے  جس سے  کہ کائنات اور اس کی تمام تر موجودات بنی ہیں۔ لہذا ہم خود کو سمجھ گئے  تو ہم کائنات اور اس کی موجودات کے  بنیادی فارمولے  کو سمجھ جائیں  گے۔ لہذا ہم کائنات کی  ’واحد حقیقت‘  (GRAND SINGULARITY) کا سراغ لگانے  کے  لئے  بہت اوپر آسمان کی وسعتوں  پر نظر دوڑانے  سے  پہلے  ذرا سہل طریقہ اختیار کرتے  ہوئے  اپنے  اندر جھانک کر دیکھتے  ہیں کہ بقول اقبال:  
اپنے  من میں ڈُوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں  بنتا نہ بن اپنا تو بن
درحقیقت اپنے  اندر جھانک کر اپنے  من کی دنیا کو دریافت کر کے  ہم نہ صرف اس عظیم تخلیق انسان کو جان لیں  گے  بلکہ خود کو جاننے  کے  عمل میں  ہم انسان کے  خالق یعنی آخری حقیقت (GRAND SINGULARITY)   کو بھی پہچان لیں  گے  یعنی سراغ زندگی پا لیں  گے۔
حضرت محمد  ﷺ نے   حدیث قدسی میں  فرمایا:
 ’’الانسان سری و انا سری‘‘
ترجمہ:۔ انسان میرا راز ہے اور میں  انسان کا راز
ایک اور حدیث میں  یوں  اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے  ’’من عرف نفس فقد عرف ربّ‘‘
ترجمہ:۔ جس نے  خود کو پہچانا اس نے  اپنے  رب کو پہچانا۔  کیونکہ کہ وہ ہمارے  اندر ہی تو ہے۔
ترجمہ:۔ اور سب کا خدا اور باپ ایک ہی ہے  جو سب کے  او پر اور سب کے  درمیان اور سب کے  اندر ہے۔ افسیوں۔ باب ۴ (۶) 
ترجمہ:۔ وہ تمہارے  نفسوں  کے  اندر ہے  تو تم کیوں  نہیں  دیکھتے (قرآن)
 جب ہماری اور کائنات کی حقیقت خود ہمارے  اندر ہے  تو کیا وجہ ہے  کہ ہم اپنے  اندر جھانک کر نہیں  دیکھتے۔ اگر ہم اپنے  اندر جھانکیں  تو کائنات ہمیں  کھلی کتاب نظر آئے  گی۔ یعنی انسان خود اپنے  اندر کائنات سمیٹے  بیٹھا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے  قطع نظر انسان نے  ہمیشہ خود سے  صرفِ نظر کیا ہے  وگرنہ خالق کائنات نے  انسان جیسا با اختیار اور طاقتور اپنے  بعد کسی اور کو نہیں  بنایا ایسا طاقتور کہ لامتناہی کائنات بنا کر اس کی بادشاہی انسان کے  حوالے  کر دی۔
حضرت مسیح نے  کہا: ترجمہ:۔ کیا تمہیں  علم نہیں  کہ آسمان کی بادشاہت تمہارے  اندر ہے۔
خالق کائنات نے  تو کائنات تخلیق کر کے  انسان کو سونپ کر اسے  با اختیار کیا تھا۔ کائنات اس کے  لئے  مسخر کی تھی۔ لیکن خالق کے  بعد کائنات کی طاقتور ہستی انسان آج اپنی طاقت اپنے  اختیار کو بالکل فراموش کر کے  خود ساختہ مجبوریوں  کا غلام بنا بیٹھا ہے۔ کائنات کا اشرف ترین انسان آج خود کو جانور ثابت کرنے  پر تلا بیٹھا ہے۔ ہمیں  اپنی حیثیت اپنے  اختیار کو پہچاننا ہو گا تاکہ ہم اس عظیم الشان کائنات کی خلافت کے  اہل قرار پائیں۔ ہمیں  اپنے  اندر جھانک کر اپنا کھوج لگانا ہی ہو گا۔ ۔
ترجمہ:۔ پس ہم انہیں  دکھائیں  گے  اپنی نشانیاں  کائنات میں اور خود ان کے  نفسوں  میں  تاکہ ان پر ظاہر ہو جائے  کہ یقیناً وہ حق ہے۔ (حم السجدہ  ۵۳)
کائنات سے  متعلق حیران کن سائنسی دریافتیں  تو آج ہمارے  سامنے  ہیں اور مزید ً محو حیرت ہوں  کہ دنیا کیا سے  کیا ہو جائے  گی  ً لیکن اب  ً انفس ً کے  راز بھی کھلنے  لگے۔ ایٹم کی طرح انسان کے  اندر بھی ایک نیا جہان دریافت ہو رہا ہے۔ انسان اپنے  اندر جھانک کر اس وسیع دنیا کو بھی حیرت سے  دیکھ رہا ہے  اور انجانی نگاہوں  سے  دیکھ تو رہا ہے  لیکن اپنے  اس باطنی رخ کو سمجھ نہیں  پا رہا، الجھ رہا ہے اور آج اس سے  یہ گتھی سلجھ نہیں  رہی کہ آخر کیسا راز ہے  یہ  ’انسان‘ ؟

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی