وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ؟

Marafat illahi


حضرت ذوالنون مصری (رحمۃ اللہ علیہ) کے تائب ہونے کا واقعہ عجیب و غریب ہے اور یہ کہ کسی شخص نے آپ کو اطلاع پہنچائی کے فلاں مقام پر فلاں نوجوان عابد ہے اور جب آپ اس سے نیاز حاصل کرنے پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک درخت پر الٹا لٹکا ہوا اپنے نفس سے مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ جب تک تو عبادت الہی میں میری ہمنوائی  نہیں کرے گا۔ میں تجھے یوں ہی اذیت دیتا رہوں گا حتی کہ تیری موت واقع ہو جائے گی۔یہ واقعہ دیکھ کر آپ کو اس پر ایسا ترس آیا کہ رونے لگے لگے اور جب نوجوان عابد نے پوچھا کہ یہ کون ہے جو ایک گنہگار پر ترس کھا کر رو رہا ہے ۔یہ سن کر آپ نے اس کے سامنے جا کر سلام کیا اور مزاج پرسی کی۔ اس نے بتایا کہ جو کہ یہ بدن عبادت الہی پر آمادہ نہیں ہے اس لیے یہ سزا دے رہا ہوں۔آپ نے کہا کہ مجھے تو یہ گمان ہوا کہ شاید تم نے کسی کو قتل کر دیا ہے یا کوئی گناہ عظیم سرزد ہوگیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ تمام گناہ معاف سے اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے میں مخلوق سے رسم و راہ کو بہت بڑا گناہ تصور کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ تم تو واقعی بہت بڑے زہد ہو۔اس نے جواب دیا کہ اگر تم کسی بڑے زہد کو دیکھنا چاہتے ہو تو سامنے کے پہاڑ پر جا کر دیکھو۔ جب آپ وہاں پہنچے تو ایک نوجوان کو دیکھا جس کا ایک کٹا ہوا پیر باہر پڑا تھا اور اور اس کا جسم کیڑوں کی خوراک بنا تھا جب آپ نے یہ صورتحال معلوم کی تو اس نے بتایا کہ ایک دن میں ایسی جگہ میں فریبی شیطانی میں مبتلا ہوا اس کے نزدیک پہنچ گیا اس وقت ندا آئی کے اے بے غیرت! 30 سال خدا کی عبادت و اطاعت میں گذار کر آج شیطان کی عبادت کرنے چلا ہے۔ لہذا میں نے اسی وقت اپنا ایک پاؤں کاٹ دیا کہ گناہ کے لیے پہلا قدم اسی پاؤں سے پڑھایا تھا۔پھر بتائیے کہ آپ مجھ گناہگار کے پاس کیوں آئے اور اگر واقعی آپ کو کسی بڑے زہد کی جستجو ہے تو اس پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائیے۔لیکن جب بلندی کی وجہ سے آپ کا پہنچنا ناممکن ہوگیا تو اس نوجوان نے خود ہی ان بزرگ کا واقعہ شروع کر دیا۔اس نے بتایا کہ پہاڑ کی چوٹی پر جو بزرگ ہیں ان سے ایک دن کسی نے کہہ دیا کہ روزی محنت سے حاصل ہوتی ہے۔بس اس دن سے انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ جس روزی میں مخلوق کا ہاتھ ہو گا وہ میں استعمال نہیں کروں گا۔جب بغیر کچھ کھائے کچھ دن گزر گئے تو اللہ تعالی نے شہد کی مکھیوں کو حکم دیا کہ ان کے گرد جمع ہوکر انہیں شہد مہیا کرتی رہیں۔چنانچہ ہمیشہ وہ شہد ہی استعمال کرتے ہیں۔یہ سن کر حضرت ذوالنون مصری (رحمۃ اللہ علیہ) نے درس عبرت حاصل کیا اور اس وقت سے عبادت  و ریاضت  کی طرف متوجہ ہوگئے اور آپ جس وقت پہاڑ سے نیچے اتر رہے تھے تو دیکھا کہ ایک اندھا پرندہ درخت سے نیچے آ کر بیٹھ گیا۔اسی وقت آپ کو خیال آیا کہ نہ جانے اس کو رزق کہاں سے مہیا ہوتا ہوگا؟لیکن آپ نے دیکھا کہ کہ اس پرندے نے اپنے چونچ سے زمین کریدی جس میں سے ایک سونے کی پیالی برآمد ہوئی اور اس میں تل بھرے ہوئے تھے اور دوسرے چاندی کی پیالی گلاب کے عرق سے لبریز تھی۔چنانچہ وہ پرندہ تل کھا کر اورگلاب کا عرق پی کر درخت پر جا بیٹھا اور پیالیاں غیب ہوگئیں۔یہ دیکھ کر آپ نے بھی اسی دن سے توکل پر کمر باندھ لی اور یہ یقین کرلیا کہ اللہ تعالی پر بھروسہ کرنے والے کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی۔اس دن کے بعد آپ نے جنگل کی راہ جہاں آپ کو کچھ پرانے دوست مل گئے اور اتفاق سے وہاں ایک خزانہ برآمد ہوگیا جس میں ایک ایسا تختہ تھا جس پر اللہ تعالی کے اسمائے مبارک کندہ تھے اور جس وقت خزانہ تقسیم ہونے لگا تو آپ نے اپنے حصے میں صرف وہ تختہ لے لیا اور ایک رات خواب میں دیکھا کہ کوئی یہ کہہ رہا ہے اے ذوالنون! سب نے دولت تقسیم کی اور تو نے ہمارے نام کو پسند کر لیا جس کے عوض ہم نے تیرے اوپر علم و حکمت کے دروازے کشادہ کر دیئے۔یہ سن کر آپ شہر واپس آگئے۔

(تزکرۃ الاولیاء:ص:85.84)

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی