سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو

Marafat illahi 



 قلندر  آزاد درویشوں کی ایک خاص قسم جو روحانیت کی طرف مائل ہو۔ صوفیانہ فلسفہ کا ایک اہم گروہ۔سلسلہ قلندریہ ایک ایسا گروہ ہے جو تارک الدنیا یعنیٰ دنیا سے لاپرواہ ہو۔ ۔!!!

وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دنیوی سے بے خبر اور لاتعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشق حقیقی میں مست فقیر۔

اصطلاح میں قلندر وہ شخص ہے جو دونوں جہان سے پاک اور آزاد رہے اگر ذرا بھی اسے دنیا سے لگاو ہو تو وہ سلسلہ قلندریہ سے دور اور صاحبان غرور میں شامل ہے
 قلندر  اور صوفی میں یہ فرق ہے کہ قلندر نہایت آزاد اور مجرد عن العلائق ہوتا ہے اور کوئی نیکی ظاہر نہیں کرتا اور کوئی بدی چھپا کر نہیں رکھتا ہے

قلندر اور صوفی ہم معنی ہالفاظ ہیں۔ قلندر وہ ہے جو حالات اور مقامات و کرامات سے تجاوز کر جائے خواجہ عبید اللہ احرار فرماتے ہیں کہ موانعات سے مجرد ہو کر اپنے آپ کو گم کر دینے کا نام قلندری ہے۔ 

شاہ نعمت اللہ ولی فرماتے ہیں کہ صوفی منتہی جب اپنے مقصد پر جا پہنچتا ہے قلندر ہو جاتا ہے۔

اللّٰه کےجو بندے قلندر ہوتے ہیں وہ زمان و مکان (Time and space) کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیں قلندر  اللّٰه تعالیٰ کے یہ نیک بندے  غرض، طمع، حرص ، شہرت اور لالچ سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ مخلوق جب ان کی خدمت میں کوئی گزارش پیش کرتی ہے تو وہ اللہ کی مدد  سےاس کو سنتے بھی ہیں اور اس کا تدارک بھی کرتے ہیں کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کے لیے مقرر کیا ہے۔

قلندر، وہ ہوتا ہے جو کائنات کو مسخر کیے ہوتا ہے، جو ہمہ وقت ایک فاتح سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔
قلندر کے لیے کائنات مثلِ غبارِ راہ ہے اُس میں مزید کی خواہش جنم نہیں لیتی،

دولتِ دنیا لُٹا دینا چاہتا ہے۔ قلندر اپنے آپ میں ایک واصل ہوتا ہے قلندر کے در پر سکندر سوالی ہوتا ہے، 
 قلندر دونوں ہاتھوں سے سب لُٹا کے بے نیاز ہوتا ہے، وہ دمِ رقص ہوتا ہے ..اس کے چہرے کی مسکان اس کی پروان کا پتا دیتی ہے 

..قلندر قبولیت کا نام ہے، جبکہ سکندر مقبولیت کا! قلندر درِ عطا پہ جڑا مہرِ وفا ہے …وہ سراپائے حق نما ہے ..قلندر، حیدریم مستم ھوتا ہے۔۔

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی