رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے.

Marafat ILLAHI



رضا محبت کا نتیجہ ہے

رضا حال کا نام ہے، یعنی ایسی کیفیت ہے جہاں بندہ مکمل طور پر اللہ تعالی سے راضی رہتا ہے. اس کا دل اطمینان میں ہوتا ہے. جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے، جو بھی مصیبت و ابتلاء کا زمانہ ہو، بندہ اس وقت کو خوشی و مسرت کے ساتھ گزار لیتا ہے. درد کو نعمت سمجھتا ہے اور اسے عزیز رکھتا ہے. گلہ و شکوہ سے بچا رہتا ہے. لبوں پہ حرفِ شکایت نہیں لاتا، بلکہ جہاں صبر کا مقام ہوتا ہے وہاں وہ شکر کی کیفیت میں ہوتا ہے.

یہ سب محبت کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے. محبت کے بغیر یہ حال و کیفیت حاصل نہیں ہوسکتی.
 بقول میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ

جناں دکھاں وچ دلبر راضی تے اناں تو سکھ وارے

دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے

محبت کے اس تعلق میں سکھ یا دکھ، آرام یا سختی، ہجر یا وصال، کلام یا خاموشی معنی نہیں رکھتے. جو کچھ محبوب کی طرف سے عطا ہو رہا ہو محب اس کو سینے سے لگاتا ہے. وہ عطیہ کے بجائے عطا کرنے والے کو دیکھ رہا ہوتا ہے. کہ جو کچھ مل رہا ہے یہ دینے والا کون ہے؟ اس درد سے مجھے کس نے نوازا ہے؟ یہ جو تکلیف پہنچی ہے یہ کس کی طرف سے آئی ہے؟ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ تو میرا محبوب ہے. پھر وہ اطمینان میں رہتا ہے اور ہر چیز کو قبول کرتا ہے. یہ کمال محبت کا نتیجہ ہے. 

جب تک محبت کا یہ درجہ حاصل نہ ہو تو یہ ممکن نہیں. کیونکہ یہ بڑا سخت مقام ہوتا ہے. یہ کربلا کا مقام ہے. جہاں اپنے جگر کے ٹکڑے قربان ہو رہے ہوتے ہیں اور بندہ خدا کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے. محب کہتا ہے:  اے محبوب..! سب تیرا ہی تو ہے، میں بھی تیرا ہوں، میری ہر شے تیری ہے. جو چاہے اسے لے لے. سب کچھ حاضر ہے.

یہ کمال درجہء محبت تب نصیب ہوتا ہے جب بندہ طالب ہوتا ہے. جب وہ ہر غیر سے ہاتھ اٹھاتا ہے. جب اپنی ہر پسند اور خواہش کو چھوڑتا ہے. جب وہ اپنا دل محبوب کے حضور پیش کرتا ہے. جب وہ اپنا آپ محبوب کو سونپ دیتا ہے. جب وہ اپنا اختیار بھی محبوب کے حوالے کر دیتا ہے. اور عرض کرتا ہے: اے محبوب...! بس تو قبول فرما.
جب بندہ خلوص سے پیش کرے تو محبوب قبول فرما لیتا ہے.

اللہ ہم سب کو توفیق سے نوازے. آمین

تحریر: سید عاصم حسین شاہ گردیزی ہجویری

Comments

Popular posts from this blog

مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح،

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ