آپؒ ایک دن حضرت حسن بصریؒ کے ہمراہ دریاء کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ اچانک پانی کے اوپر چلنا شروع کر دیا

Marafat illahi



حضرت عتبہ بن غلام (رحمۃ اللہ علیہ)

آپؒ کا شمار اہل باطن اور اہل کمال میں ہوتا ہے۔ آپؒ حضرت حسن بصریؒ کے تلامذہ میں ہیں اور آپؒ کا طریقہ مقبول عام و خاص تھا۔

راضی بر رضائے الٰہی:
آپؒ ایک دن حضرت حسن بصریؒ کے ہمراہ دریاء کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ اچانک پانی کے اوپر چلنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حسن بصریؒ حیرت زدہ ہو گئے اور ان سے سوال کیا کہ آپ کو یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟؟؟   فرمایا کہ آپ تو صرف وہ کرتے ہیں جسکا آپ کو حکم دیا جاتا ہے لیکن میں وہ امور انجام دیتا ہوں جو اللہ تعالٰی کا منشاء ہوتا ہے۔  مطلب یہ تھا کہ آپؒ بحر تسلیم و رضاء  میں غرق رہتے ہیں۔ 

احساس زیاں:
آپؒ اس طرح تائب ہوئے کہ ایک حسین عورت پر فریفتہ ہوئے، اس سے کسی نہ کسی طرح اپنے عشق کا اظہار کر دیا۔ چنانچہ اس نے اپنی کنیز کے ذریعہ دریافت کرایا کہ آپؒ نے میرے جسم کا کون سا حصہ دیکھا ہے؟؟؟  آپؒ نے فرمایا کہ تمہاری آنکھیں دیکھ کر فریفتہ ہوا ہوں۔۔اس  جواب کے بعد اس نے اپنی دونوں آنکھیں نکال کر آپؒ  کی خدمت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کنیز سے یہ کہلوایا کہ جس چیز پر آپ فریتہ ہوۓ تھے وہ حاضر ہیں۔ یہ دیکھ کر آپؒ کے اوپر ایک عجیب حالت طاری ہو گئی اور حضرت حسن بصریؒ کی خدمت میں پہنچ کر تائب ہوئے اور فیوض باطنی سے بہراور ہو کر مشغول عبادت رہے۔ خود اپنے ہاتھ سے جو کی کاشت کرتے اور خود ہی اپنے ہاتھ سے آٹا پیستے اور پانی میں تر کرکے دھوپ میں سکھاتے  اور پورے ہفتہ ایک ایک ٹکیہ کھا کر عبادت میں مشغول رہتے اور فرماتے کہ روزانہ رفع حاجت کے لیے جانے سے کراماً کاتبین کے سامنے شرم آتی ہے۔

(تزکرۃ الاولیاء:ص:45)

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی