سرکار واصف علی واصفؒ کی محفل میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے بارے میں بات ہو رہی تھی

Marafat illahi

سرکار واصف علی واصفؒ کی محفل میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے بارے میں بات ہو رہی تھی تو آپ نے فرمایا کہ اُن کو ایک ہزار سال ہو گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ ابھی کی بات ہے۔

عُرس کی بات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ عرس کے بعد حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کہتے ہوں گے کہ میرے پاس تو ایک بھی بندہ نہیں آیا جس نے مجھ سے یہ مانگا ہو کہ آپ نے  جو سفر طے کیا ہے اُس میں سے مجھے بھی کچھ حصہ عطا فرمادیں۔ آپ نے داتا صاحب رح کی شان میں کافی  شاندار اشعار لکھے ہیں ۔ایک فارسی شعر میں فرماتے ہیں کہ

واصفِ مسکیں چہ گوید ایں مقامِ حیرت است
خواجہِ  من   قبلہِ  من   گفت   قولِ  حق   بجا

یعنی میں واصفِ مسکیں داتا صاحب رح کی کیا بات کہوں کیوں کہ یہ حیرت کا مقام ہے، میرے قبلہ، میرے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح نے حق سچ کی بات کی ہے کہ 

گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نُورِ خدا
ناقصاں را پیِرِ کامل کاملاں را رہنما

اس شعر کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ ابتدا میں خواجہ صاحب رح نے فرمایا تھا کہ “ گنج بخشِ ہر دو  عالم” ۔ تب کچھ قریبی لوگوں نے عرض کی کہ سرکار کچھ مہربانی فرمائیں، یہ لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گا۔  پھر اُنہوں نے فرمایا کہ “ گنج بخشِ فیضِ عالم”۔

آپ سرکار رح نے اس مشہور شعر کے مفہوم کے بارے میں فرمایا کہ “ وہ دنیا کو فیض کا خزانہ بخشنے والے ہیں۔” آگے فرمایا کہ “ مظہرِ نُورِ خدا” کا مطلب یہ ہے کہ حضور پاک صلّی اللّٰہ علیہ و آلہٖ و سلّم جو ہیں وہ اللّٰہ کا نُور ہیں اور داتا صاحب رح اس نُور کا مظہر ہیں ، اظہار ہیں ۔

اسی طرح آپ سرکار رح ہی کا ایک مشہور شعر ہے کہ  

یہ نُور نبی کا ہے، داتا ہے زمانے کا
اس دَر پہ عقیدت سے اب سر کو جھکانے دو.


Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی