اور کہا مرشد نے" تم سب لوگ ہی یہ کہتے ہو کہ خالق کی مرضی کے بغیر پتہ تک نہیں ہلتا' تو خالق کی مرضی کے بغیر یہ حالات یہ مشکل کیسے آ سکتی ہے

Marafat illahi

اور کہا مرشد نے"
تم سب لوگ ہی یہ کہتے ہو کہ خالق کی مرضی کے بغیر پتہ تک نہیں ہلتا' تو خالق کی مرضی کے بغیر یہ حالات یہ مشکل  کیسے آ سکتی ہے؛
 جس کا تمہیں سامنا ہے اب اگر تم لڑ رہے ہو تو سوچو کس سے لڑ رہے ہو اس سے جس نے یہ حالات یہ سچویشن تخلیق کی ہے کیا تم خالق کائنات سے لڑ سکتے ہو '
ہماری مشکلات پریشانیوں کے بارے میں مرشد کیا کہتا ہے ،
کہ تم لڑو ہی نہیں اگر تم لڑو گے تو تم ہارو گئے کیونکہ تم لڑتے ہی اس لیے ہو کہ کسی مشکل کو 
کسی صورت حال کو خود سے الگ کوئی چیز مان لیتےہو۔
 یہ پوری کی پوری حیات ایک ہے "
زندگی ایک لہر ہے مرشد کہتا ہے. جھکنا سیکھ لو 
طوفان آئے تو مقابلے میں کھڑے نہ ہو جاؤ اس کے ساتھی بن جاو تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا طوفان  کب آیا '
کب گزر گیا اور طوفان کے گزر جانے کے بعد تم پاؤ گے کہ طوفان نے تمہیں چھوا ہی نہیں
 کیونکہ تم لڑے ہی نہیں یاد رکھیں جس کا طوفان ہے اسی کےہی تم ہو" اس کائنات میں دشمن نام  کی کوئی چیز ہے ہی نہیں یہ ہم خود ہی طے کرتے ہیں 
پتہ ہے کیوں کیونکہ ہم لڑنا چاہتے ہیں سارے دشمن ہماری اپنی تخلیق ہیں. ہماری خواہشوں ہمارے لالچوں ہمارے غصے ہماری انا کی اور ہمارے تکبر کی تخلیق سب دکھ ھم خود تہلیق کرتے ہیں
 مرشد کہتا ہے ایسے ہو جاؤ جیسے ہوا تلوار سے نکل جاتی ہے اور تلوار ہوا  سے نکل جاتی ہے 
ہوا کہیں کٹتی نہیں کیونکہ ہوا مذاخمت نہیں کرتی 
پانی کو تلوار سے کاٹیں ابھی تلوار پانی سے گزری نہیں ہوتی پانی پھر جڑ چکا ہوتا ہے
 کیونکہ پانی مزاحمت نہیں کرتا مرشد بھی یہی کہتا ہے کہ تم ھوا پانی جیسے ہو جاؤ 
لڑو ھی مت مزاخمت ہی نہ کرو"

Comments

Popular posts from this blog

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ

یہ تحریر ان سالکین کے لیے ھے جو کئی سالوں سے کسی شیخ کی نسبت سے بندھے ہوئے ھیں مگر آج تک کوئی منازل سلوک طے نہ ہوئی