حضرت باقی باالله رحمتہ الله علیہ سے ایک دن کسی نے سوال کیا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو باقی بالله کیوں کہا جاتا ہے؟

Marafat illahi

( سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم روحانی بزرگ )

حضرت باقی باالله رحمتہ الله علیہ سے ایک دن کسی نے سوال کیا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو باقی بالله کیوں کہا جاتا ہے؟ تو حضرت باقى باالله رحمتہ الله علیہ نے ارشاد فرمایا کہ جو میرا جنازہ پڑھائے گا اس سے پوچھ لینا وقت گزرتا گیا اچانک حضرت باقی بالله رحمتہ اللہه علیہ کی یہ خبر گردش کرنے لگی کہ حضرت باقی باالله رحمتہ الله علیہ وصال فرما چکے ہیں جب اس شخص نے اعلان جنازہ کی خبر سنی تو پہلی صف میں کھڑا ہو گیا کہ ایک نقاب پوش گھوڑے پہ سوار آیا اور مصلیٰ امامت پہ کھڑا ہو گیا امامت کی اور جب جنازہ پڑھا لیا تو گھوڑے پر سوار ہو گیا واپس جانے لگا تو اس آدمی نے گھوڑے کی رکاب کو تھام لیا اور عرض کی کہ حضور ایک دن ایک سوال میں نے حضور باقی باالله رحمتہ الله علیہ سے کیا تھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا تھا جو میرا جنازہ پڑھائے گا اسی سے پوچھ لینا آپ رحمتہ الله علیہ نے فرمایا کہ سوال کیا تھا تو اس شخص نے عرض کی کہ حضرت کو باقی بالله کیوں کہتے ہیں؟ آپ رحمتہ الله علیہ نے اپنا نقاب اٹھایا تو زمانے کے اوسان خطا ہوگئے انھوں نے دیکھا کہ خود باقی باالله رحمتہ الله علیہ تھے اور ارشاد فرمایا کہ وہ جس کا جنازہ پڑھا گیا ہے وہ فنا ہے اور یہ جو جنازہ پڑھا کر واپس جا رہا ہے یہ باقی باالله ہے الله والوں کی ذات عشق مرشد سے فنائیت کو پا کے جب محبوب میں سما جاتی ہے تو ہمیشہ کے لئے باقی ہو جاتی ہے پھر جو لباس بشر میں موجود وجود ہوتا ہے وہ محض اک پردہ کے سوا کچھ یں اور یہی 
وجود حقیقتاً صورتِ فنائیت اک نشاں ہے.


Comments

Popular posts from this blog

مرشد دودھ پلانے والی دایہ کی طرح ہو جاتا ہے اور مرید دودھ پیتے بچے کیطرح،

ﮨﺘﮫ ﭘﮑﮍ ﻃﺒﯿﺒﺎ ﻣﺮﺽ ﻧﮧ ﭘﭽﮫ ﻧﮧ ﻋﺮﻕ ﭘﻼ، ﻣﯿﻨﻮﮞ ﮐﺞ ﻭﯼ ﻧﺌﯿﮟ